فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایف ڈی اے انتظامیہ کی طرف سے پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کے ڈویلپرسے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار کی رہائشی سکیموں میں سیوریج کے تمام گٹروں پر باقاعدہ ڈھکنوں کی موجودگی کو یقینی بنائیں جبکہ سٹریٹ لائٹس چالو اور کسی قسم کی زمینی کھدائی یا راستوں میں گڑھوں کی صورت میں اسے جامع انداز میں مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے۔ مزید براں اس امر کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا جائے کہ ان کی ہائوسنگ سکیموں میں تمام گٹروں پر مضبوط ڈھکن موجود، زمینی گڑھے محفوظ اور سٹریٹ لائٹس چالو حالت میں ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے ڈائریکٹر ٹائون پلاننگ ii کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائوسنگ سکیموں کا مکمل سروے اور مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھیں۔ ڈی جی ایف ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ کھلے اور غیر محفوظ گٹروں یا راستوں پر گہرے گڑھوں کے باعث اگر انسانی جان کے لیے کوئی حادثہ پیش آیا تو ایف ڈی اے کے متعلقہ سٹاف سمیت قصور وار ڈیویلپر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا۔ ڈی جی ایف ڈی اے نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کھلے مین ہولز کے حوالے سے عدم توجہی یا لاپرواہی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے لہذا اس سلسلے میں کوتاہی مجرمانہ غفلت ہو گئی۔ انہوں نے ڈویلپرز سے کہا کہ کہ وہ اپنی رہائشی سکیموں میں گٹروں کو حادثات سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے مانیٹرنگ سسٹم پر مسلسل عمل درآمد کریں اور اس سلسلے میں سیکورٹی سٹاف متحرک رکھتے ہوئے باقاعدگی سے رپورٹ حاصل کی جائے تاکہ کسی جگہ کوئی مین ہول کسی بھی وقت کھلا نہ رہے۔




