ماموں کانجن (نامہ نگار ) آپس میں دو تیز رفتار موٹر سائیکل ٹکرانے کے نتیجہ میں ایک طالب علم جاں بحق چار افراد زخمی۔ واقعہ بنگلہ روڈ ماموں کانجن نزد اٹک پٹرولیم کے قریب پیش آیا۔ بتا یا گیا ہے کہ ماموں کانجن بنگلہ روڈ نزد اٹک پٹرولیم کے قریب طالب علم نعمان سکنہ 494گ ب وغیرہ تین افراد موٹر سا ئیکل پر سوار ہوکر جارہے تھے کہ سامنے سے آنے والے موٹر سائیکل سے اچانک آپس میں ٹکر ہوگئی جس کے نتیجہ میں پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے جن کو فوری ہسپتال لے جایا گیا۔ جن میں طالب علم نعمان ولد نذ یر احمد سکنہ 494 گ ب ہسپتال میں دم توڑ گیا ۔نعش گھر میں آتے ہی کہرام مچ گیا جس سے علاقہ کی فضاء سو گوار ہوگئی۔دریں اثنائ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ٹریفک حادثات میں دو افراد جاں بحق’ 3بری طرح زخمی ہو گئے، پولیس نے نعشیں تحویل میں لیکر ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر کے حادثات کے مرتکب ڈرائیورز کی تلاش شروع کر دی۔ تفصیل کے مطابق پہلا حادثہ کینال روڈ پر لائلپور گیلریا کے قریب پیش آیا جہاں پر گوکھوال کا رہائشی شہزاد علی اپنے بیٹوں 13سالہ سبحان’ 11سالہ تیمور اور 10سالہ بھانجے حیدر ولد اکبر کے ہمراہ شاپنگ کر کے روڈ کراس کرتے ہوئے تیز رفتار کار نے بچوں کو کچل دیا، جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا جہاں پر 13سالہ سبحان ولد شہزاد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ جبکہ دوسرا حادثہ جڑانوالہ کے علاقہ 108 گ ب کے قریب پیش آیا جہاں پر تیز رفتار کار کی ٹکر لگنے سے موٹرسائیکل سوار 17سالہ اویس اور 16سالہ اسد گرے تو عقب سے آنیوالا ڈالہ ان پر چڑھ گیا تو 17سالہ اویس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ اسد کو طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ پولیس مصروف تفتیش ہے۔دریں اثنائ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پرانی دشمنی کی بنا پر مشتعل افراد نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر ادھیڑ عمر شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا، پولیس نے نعش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر کے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی۔ تفصیل کے مطابق 410 گ ب کی رہائشی زیارت بی بی نے بتایا کہ اسکی بیٹی گھر سے لاپتہ تھی اس کا شوہر شوکت علی اور بیٹا عدنان تلاش کرنے کیلئے عزیزوں کے پاس جا رہے تھے کہ جب وہ 452 گ ب کے قریب پہنچے تو مشتعل افراد عرفان وغیرہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ ڈنڈوں اور سوٹوں کے وار کر کے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ مضروب باپ بیٹے کو طبی امداد کیلئے ہسپتال لایا گیا جہاں پر شوکت علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس نے نعش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر کے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔




