پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت (اداریہ)

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دیدی تاہم اس پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی، کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری زیرغور کے بعد ای سی سی نے پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 80کروڑ کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزارت خزانہ میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے نیویارک سے ورچوئل طور پر کی اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد سے متعلق سمری پر غور کیا اور تفصیلی بحث کے بعد تجاویز کی منظوری دے دی ای سی سی نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022ء کی متعلقہ شقوں میں ترمیم کا فیصلہ کیا تاکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جا سکے ابتدائی طور پر صرف 5 سال سے پرانی نہ ہونے والی گاڑیوں کو 30جون 2026ء تک درآمد کرنے کی اجازت ہو گی جس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی مزید برآں اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ ایسی کمرشل درآمد ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کی سخت تکمیل کے ساتھ مشروط ہو گی کمیٹی نے 5سال سے کم استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجود کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دی یہ اضافی ڈیوٹی 30جون 2026ء تک نافذ العمل رہے گی،، وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے 5سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت کو اچھا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے اس کے ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ان گاڑیوں کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے جس کی بدولت قومی خزانے میں اضافہ ہونے کی توقع ہے قبل ازیں کئی سابق حکومت کے دور میں بھی پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی جس کی وجہ سے جاپان’ برطانیہ’ فرانس اور دیگر ممالک سے درآمدہ 5سال پرانی گاڑیاں بڑی تعداد میں برآمد کی گئیں جو شائد آج بھی ہمارے ملک کی سڑکوں پر دوڑ رہی ہوں کیونکہ ہمارے ملک میں اسمبلنگ ہونے والی گاڑیوں کی نسبت بیرون ممالک میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو اسمبلنگ زیادہ دیرپا اور پائیدار ہوتی ہے لہٰذا بیرون ملک سے برآمد کی گئی پرانی گاڑیوں کو خریدار خریدنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی منظوری یقینا حکومت کیلئے فائدہ مند ہو گی لیکن خریداروں کیلئے شائد زیادہ قبول نہ ہو کیونکہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ ان گاڑیوں پر 40فی صد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے ان گاڑیوں کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ سے بہت دور ہو جائیں گی ضرورت اس امر کی ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کم ازکم پچاس فیصد کمی کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ خریدار بیرون ملک سے درآمد ہونے والی پرانی گاڑیوں میں دلچسپی لیں اور اپنے پسندیدہ برانڈ کی گاڑی حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں