پراپرٹی ٹیکس کے قلمی نوٹسز اور آن لائن ریکارڈ کی رقوم میں فرق

ماموں کانجن(نامہ نگار)مامونکانجن کے رہائشی یاسین نے دعوی کیا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اس کی اور اس کے بھائی محمد ذوالفقا ر کی چونگی نمبر پانچ پر دکانیں موجود ہیں، جن کی ملکیت بھی دونوں کی الگ الگ ہیں، جبکہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے انسپکٹر اکبر سلطان نے بغیر اطلاع یا چالان وغیرہ کے دونوں کی دوکانیں پراپرٹی ٹیکس نادہندہ قرار دیتے ہوئے سیل کر دیں، سیل کے
ساتھ لگائے گئے پراپرٹی نمبرp-43کا 1,43,900 روپے کا نوٹس لگایا، جب ان سے رابطہ کیا گیا تو ان کے دفتر میں موجود ان کے کار خاص کلرک ملک اسامہ نے کہا کہ فوری میرے دفتر میں 1,43,900 جمع کروائیں ورنہ دکانیں نہیں کھلیں گیں، جس پر ان سے گزارش کی کہ آپ چالان فارم دیں میں فوری بنک میں جمع کروا دیتا ہوں جس پر انہوں نے کہا کہ پیچھے سے چالان فارم بند ہیں لہذا میرے آفس میں جمع کروائیں، جس پر میں نے دوستوں سے مشاورت کے بعد آن لائن چالان نکلوایا جو کہ 1,43,900کی بجائے صرف 39364کا تھا، جو میں فوری باہر سے بنک میں جمع کروادیا، اس سب کے باوجود اکبر سلطان انسپکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ ہمراہ پرائیویٹ ملازمین چالان مہیا کئیے سخت زیادتی کی اور دکانوں کو سیل کر کے بدنامی کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں