ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے، خواہ وہ اشیائے خوردونوش ہوں یا کوئی بھی چیز ہو، قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں، حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا ٹائم فریم یقینی بنانا ہو گا تاکہ لوگوں پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ کم سے کم ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین بارے پٹرولیم صنعت کو بریفنگ دی گئی، حکومت نے شفاف’ مارکیٹ پر مبنی اور مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کے ذریعے یومیہ قیمتوں کے نظام کے کامیاب نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرصدارت اوگرا’ آئل انڈسٹری اور متعلقہ اداروں کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں نئے پرائسنگ میکنزم، اس کے نفاذ اور درپیش تکنیکی وانتظامی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، نئے طریقہ کار کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتیں شفاف اور فارمولا پر مبنی نظام کے ذریعے مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کے مطابق مقرر ہوں گی جس سے صارفین کو سیاسی بنیادوں پر قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات سے تحفظ حاصل ہو گا۔ یومیہ قیمتوں کے نظام کا نفاذ پاکستان کی معیشت کو زیادہ مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی بنانے بنیادی پیش رفت ہے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر کے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی اور قیمتوں میں بھی جو اتار چڑھائو ہو گا وہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔ پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین کا یہ طریقہ کار ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اصافے کا رجحان ہے، پچھلے ایک ہفتے میں تیل کی قیمتوں میں 14 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی صورت میں عالمی منڈی میں اتار چڑھائو کا اثر بھی روزانہ کی سطح پر عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس وقت جبکہ فروری سے اب تک خلیجی جنگ کے جواز کے تحت پٹرولیم نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے جس کے باعث عام آدمی پہلے ہی شدید مہنگائی کم ہوتی قوت خرید اور معاشی بے یقینی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، پٹرولیم نرخ مزید بڑھانا اور پھر نرخوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کا فیصلہ کرنا غربت میں پسی ہوئی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بھی بنے گا۔ اس سلسلہ میں حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے باعث روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین ضروری ہو گیا ہے اور اوگرا نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا کرے گی۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ عوام کی پٹرولیم مصنوعات کی مد میں 130 ارب روپے کا ریلیف پہلے ہی دے چکی ہے۔ حکومت کے یہ دعویٰ اپنی جگہ درست لیکن زمینی حقائق اس سے قطعی مختلف نظر آتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ایسا شفاف اور قابل اعتماد نظام وضع کرے جس میں عالمی قیمتوں’ درآمدی لاگت ٹیکسوں اور دیگر عوامل کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے موجود ہو۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کی بجائے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کاروباری طبقے اور عوام دونوں کو اپنے معاملات چلانے کی منصوبہ بندی کا مناسب موقع مل سکے۔ پٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں اس کا حقیقی فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ان مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کا بھی جائزہ لے اور ان محصولات میں کمی کرے نیز ریگولیٹری اقدامات کو بھی اس قدر مؤثر بنایا جائے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا یہ نظام صارفین کے استحصال کا سبب نہ بنے۔ قیمتوں کو تو آزاد کر دیا جائے مگر ٹیکسوں کا بوجھ اسی طرح اور ریگولیٹری میکانزم کمزور ہو تو قیمتوں کی ڈی ریگولائزیشن کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک متوازن پالیسی اختیار کرے۔ ایک طرف عالمی منڈی کے مطابق شفاف قیمتوں کا نظام نافذ کیا جائے تو دوسری جانب ٹیکسوں کی شرح کو معقول سطح پر رکھا جائے اور ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنایا جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے وقت عوام کی زبوں حالی کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو اور غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی آسانی سے میسر ہو سکے۔




