لاہور (بیوروچیف) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ فی الحال ملک میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں تاہم اگر قلت پیدا ہوگئی تو فی لٹر قیمت ایک ہزار روپے تک بھی جاسکتی ہے ، تیل کی قلت کی وجہ سے ہم نے ہمسایہ ممالک میں افراتفری دیکھی ہے ،ہمیں نہیں معلوم یہ تنازع کب ختم ہو گا لیکن اس تنازع کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں 50 فیصد اضافہ ہوا جو حکومت کی کوشش سے ہی ممکن ہوا،سردیوں میں عوام کو گیس کی تنگی نہیں ہونے دیں گے چاہے 3 کے بجائے 100ملین ڈالرکی گیس منگوانا پڑے ۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں علی پرویز ملک نے کہا کہ ایک ذمہ دار وزیراعظم کے طور پر شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت کے آگے بند باندھا ہے ، گزشتہ روز ایک دن میں18کروڑ روپے کے ٹوکن جاری کیے گئے ، جماعت اسلامی لوگوں کی تکالیف پر سیاست چمکانے سے گریز کرے ، جماعت اسلامی کے وفدکو بتا دیا تھا کہ ہمیں چیلنجز کا سامنا ہے ،کنوں پرکام شروع ہوگیا ، اکتوبر میں زیرِ سمندر تیل تلاش کرنے کے لیے ترکی کا جہاز پاکستان آ رہا ہے ۔وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہاکہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں مشکل حالات کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔مشکل عالمی حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی، توانائی کے تحفظ اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت انتہائی نازک علاقائی صورتحال سے گزر رہا ہے گزشتہ کئی ماہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان سمیت متعدد ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے ،سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے والے حوثی حملوں سمیت علاقائی کشیدگی نے عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالا ہے ، ریاست کے مفاد میں جو کچھ ضروری ہوا وہ کیا جائے گا،سستی سیاست کے بجائے ریاست کے مفادات اور قومی معیشت کے تحفظ کو ترجیح دی جائے گی۔علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ بحران کسی ایک ملک یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کو متاثر کر رہا ہے اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔




