فیصل آباد (آن لائن) پنجاب بھر ضلعی انتظامیہ اور پیرا فورس کے اہلکار بھی مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، ایل پی جی،گندم کی قیمتوں میں منافع خوروں کی من مانے اضافے کے بعدپولٹری مافیا شہریوں کو لوٹنے کیلئے سرگرم ہوگیا، دو ہفتوں کے دوران 150سے 200برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں فی کلو اضافہ،برائلرمرغی کا گوشت 620 روپے فی کلو ہوگیا، آٹا مہنگا ہونے سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ، گائے ا ور بکرے کا گوشت برائلرگوشت،انڈے، دودھ پھل وسبزی فروش دوکانداروں نے بھی اپنے اپنے ریٹ مقرر کررکھے ہیں،سبزیوں مٹر،گاجر،میتھی،ساگ،شلجم کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ،پیاز 180سے 200روپے جبکہ مٹر,400روپے کلو ہوگئے،پنجا ب حکو مت ذخیرہ اندوزوں اور منا فع خو روں کے سا منے بے بس ،ضلعی انتظامیہ کی خاموشی، شہری سراپہ احتجاج,شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں مجسٹریٹی نظام کو فوری بحال کیا جائے تفصیلات کے مطابق پاکستان کے تیسر ے اور پنجاب کے دوسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں ڈویژنل وضلع انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پرا ئس کنٹرول کمیٹیوں کا نظا م مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، ما رکیٹو ں، با زاروں،دکا نوں،ریڑھیوں پر اشیا ئے ضروریہ کی قیمتیں آسما ن سے با تیں کر رہی ہیں،جبکہ ریٹ لسٹ پر کہیں بھی عملدرآمد نظر نہیں آتا، دو ہفتوں کے دوران برائلر مرغی کے گوشت میں 150سے 200روپے فی کلو اضافہ ہوچکا ہے بکرے کا گوشت 2800سے 3000روپے جبکہ گائے کا گوشت 1400سے 1500روپے فروخت ہورہاہے دودھ 160سے 260روپے فروخت ہورہاہے، موجودہ دنوں میں سبزیوں اور سبز مصالحہ جات کی قیمتوں میں سب سے زیا دہ اضا فہ ہوا ہے اگر بات کی جائے ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا جاسکا 530سے 550تک فروخت ہورہی ہے اس طرح گندم کی قیمت 5400روپے فی من تک فروخت ہورہی ہے اس کے ساتھ ہی آٹا مہنگا ہونے سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ گھی کی قیمتں بھی بڑھ گئیں، گائے ا ور بکرے کا گوشت برائلرگوشت،انڈے، دودھ پھل وسبزی فروش دوکانداروں نے بھی اپنے اپنے ریٹ مقرر کررکھے ہیں، سبزیوں میں مٹر، گاجر، مولی، میتھی، ساگ، شلجم، ادرک اور پیاز کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ،پیاز 180سے 200روپے جبکہ میٹر400روپے کلو ہوگئے،برائلرمرغی کی قیمتوں اضافہ ہوگیاپنجا ب حکو مت ذخیرہ اندوزوں اور منا فع خو روں کے سا منے بے بس ، لہسن،ادرک،پیاز اور دیگر سبزیوں کی صورتحا ل بھی مختلف نہیں، گرا نفروشوں نے شہریوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے، مہنگا ئی کی لہر کا آغازسبز منڈی اور غلہ منڈی سے ہو تا ہے جہاں سے پہلے ہو ل سیلرز بھاری منا فع وصول کرتے ہیں،اس کے بعد آڑھتی،پھر پھڑئیے اور آخر میں دکا ندار یا ریڑھی با ن اپنی جیب بھرتے ہیں،یو ں تما م بو جھ عا م شہری کی جیب پر پڑتا ہے، عا م شہری اپنی مرضی سے نہیں بلکہ جیب دیکھ کر سبزی لیتا ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظا میہ کے پا س ڈپٹی کمشنر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر ز، پرا ئس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس مو جو د ہو نے کے با وجود اگر سبزی جیسی بنیادی ضرورت بھی عوام کی پہنچ سے دور ہے ،تو یہ انتظا میہ کی کمزو رگرفت اور نا کا می کامنہ بو لتا ثبو ت ہے، ما ر کیٹ کمیٹی کی جا نب سے ریٹ لسٹ جا ری کرتے وقت بھی منڈی کی نیلا می کومد نظر نہیں رکھا جا تا اور ریٹ لسٹ جا ری ہو نے کے بعد اس پر کہیں عملدرآمد ہو تا نظر نہیں آتا،شہریوں نے وزیراعلی پنجا ب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ اگر مہنگائی کو کنٹرول کرناہے تو فوری طور مجسٹریٹی نظام کو بحال کیا جائے اور مہنگا ئی پر قابو پا نے کو اپنی پہلی تر جیح بنا ئیں۔




