فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) بین المذاہب امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ملک میں امن و امان، بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے پیغامِ پاکستان کے عنوان سے ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا، جس میں علمائے کرام، مذہبی و سماجی رہنمائوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔سیمینار کی میزبانی کے فرائض معروف مذہبی رہنما مفتی نصر اللہ عزیز نے انجام دیے۔ تقریب میں ممتاز شخصیت بابا مشتاق احمد کمبوہ، ڈاکٹر افتخار حسین نقوی سمیت دیگر مذہبی و سماجی رہنمائوں نے خصوصی شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بین المذاہب امن کمیٹی ندیم ابراہیم نے کہا کہ پیغامِ پاکستان ایک ایسا قومی بیانیہ ہے جو ملک میں امن، برداشت، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں معاشرے کو انتشار اور نفرت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ پیغامِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کو عوام تک پہنچایا جائے اور اسے گھر گھر عام کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، مسالک اور ثقافتوں کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے، جہاں باہمی احترام، برداشت اور رواداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مذہبی و سماجی رہنمائوں کو عوام میں اتحاد، اخوت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے-تقریب سے خطاب کے دوران شرکا نے بین المذاہب امن کمیٹی کی جانب سے امن و رواداری کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے سیمینار معاشرے میں مثبت سوچ، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔اس موقع پر بابا مشتاق احمد کمبوہ اور ڈاکٹر افتخار حسین نے بھی بین المذاہب امن کمیٹی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے پیروکار باہمی تعاون سے پاکستان کو امن، محبت، اخوت اور رواداری کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔سیمینار کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔




