چین کا نیا شاہکار

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی قطر والی ہائی اسپیڈ ریلوے ٹنل بورنگ مشین کے ذریعے دریائے یانگسی کے نیچے زیرِ آب سرنگ کی کھدائی کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ اس کامیابی کے بعد پہلی بار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہائی اسپیڈ ٹرین دریائے یانگسی کے نیچے بغیر رفتار کم کیے سفر کر سکے گی۔چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق لنگ ہانگ نامی مکمل طور پر چین میں تیار کی گئی ٹنل بورنگ مشین نے جمعرات کو چونگ منگ تائی چانگ زیرِ آب سرنگ کے آبی حصے کی کھدائی مکمل کر لی، جسے چین کی ریلوے ٹنلنگ ٹیکنالوجی میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر 14.25 کلومیٹر طویل یہ سرنگ شنگھائی کے چونگ منگ ضلع کو ہمسایہ صوبہ جیانگ سو کے شہر تائی چانگ سے ملائے گی۔ یہ منصوبہ چین کے دریا عبور کرنے والے ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبوں میں اعلیٰ ترین تعمیراتی معیار کے مطابق تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے دنیا کے پیچیدہ ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔چائنا ریلوے ٹنل گروپ کے چیف انجینئر لی بن کے مطابق 148 میٹر طویل اور تقریبا 4 ہزار ٹن وزنی لنگ ہانگ مشین کا کٹر ہیڈ 15.4 میٹر قطر کا ہے، جو اسے ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی شیلڈ ٹنل بورنگ مشین بناتا ہے۔خودکار نظام سے چلنے والی اس مشین نے دریائے یانگسی کے نیچے ایک ہی مرحلے میں 11.325 کلومیٹر مسلسل کھدائی کر کے چین میں 15 میٹر قطر کی شیلڈ ٹنلنگ کا نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔منصوبے کی مکمل تکمیل 2026 کے اختتام تک متوقع ہے۔ اس کے فعال ہونے کے بعد چونگ منگ، جہاں اب تک ہائی اسپیڈ ریلوے کی سہولت موجود نہیں، پہلی بار قومی تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہو جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد چونگ منگ سے تائی چانگ کے راستے شنگھائی کے باشان ریلوے اسٹیشن تک سفر کا دورانیہ صرف 17 منٹ رہ جائے گا، جس سے خطے میں آمدورفت اور معاشی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں