چین کو پاکستان’ افغانستان کشیدگی پر تشویش (اداریہ)

چین کی وزارت خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے شہریوں اور خطے میں موجود چینی سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں چین’ جس کی سرحد افغانستان اور پاکستان کے ساتھ مغربی خطے میں ملتی ہے’ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے ایک معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر بنانے اور ترقی دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا انہوں نے امید ظاہر کی کابل اور اسلام آباد پُرامن اور محتاط رہیں گے اور مکالمے اور مشاورت کے ذریعے اپنے باہمی خدشات کو مناسب انداز میں حل کرتے رہیں گے تاکہ تنازع میں شدت پیدا نہ ہو’ دوسری جانب دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کے باعث باہمی تجارت بھی معطل ہے سرحد پر سکیورٹی کے انتظامات بدستور سخت ہیں پاک فوج کی جانب سے سرحد پر بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے،، پاکستان اور افغانستان کا رشتہ کبھی سیدھی لکیر نہیں رہا یہ تاریخ کے ایسے پیچیدہ اور زخم خوردہ صفحات پر لکھا گیا باب ہے جس میں اعتماد کے بجائے شک’ دوستی کے بجائے خوف اور وعدوں کے بجائے الزامات زیادہ ہیں پاکستان کے عظیم دوست چین نے بھی افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت کے راہنمائوں کو مذاکرات کے ذریعے خطے میں قیام امن کیلئے کردار ادا کرنے کی دعوت دی تھی بلکہ افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کا بھی پیغام پہنچایا مگر افغانستان میں وفا نام کو بھی نہیں اور یہ صرف اپنا کام نکالنے کیلئے بات چیت کرتا ہے جو افسوسناک ہے پاکستان کے ساتھ افغانستان کی کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں دونوں ملکوں کی باہمی تجارت بہت اہم ہے اور چند روز بھی اس تجارت کو بند کرنے سے دونوں ملکوں کے تاجروں کو بہت بھاری نقصان ہوتا ہے افغانستان نے پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسایہ کے تعلقات رکھنے کے وعدے کئے مگر ہر بار پاکستان کو دھوکہ دیا پاکستان نے ہمیشہ یہ خواہش رکھی کہ ایک آزاد مستحکم اور پرامن افغانستان ہی خطے کے امن کی ضمانت ہے، لیکن کابل میں بیٹھے حکمرانوں نے بار ہا اسی سرحد کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ امید تھی کہ شائد اب ماضی کی تلخیاں ختم ہوں گی مگر چند برسوں میں ہی یہ وہم ٹوٹ گیا پاکستان نے کابل سے بار بار مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں نہ دے مگر اس معاملے میں طالبان حکومت کا رویہ دوغلا رہا بظاہر وہ امن کی بات کرتے ہیں مگر عملاً وہ ان گروہوں کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات خاموش حمایت بھی کرتے ہیں یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے موجودہ تصادم کا آغاز ہوا پاکستان اب پہلے جیسا نہیں، اس نے دو دہائیوں کی دہشت گردی جھیلی ہزاروں جانوں کی قربانی دی معیشت تباہ ہوئی اب ریاست کوئی دبائو برداشت نہیں کرے گی افغانستان سے پاکستان میں آ کر دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانا پاکستان کی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے افغانستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کا نوٹس لیکر افغانستان میں جا کر دہشت گردوں کی چوکیوں کو تباہ کرنے سے افغانستان کی عبوری حکومت کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان اب کسی قسم کے پریشر میں نہیں آئے گا چاہے وہ بھارت ہو یا افغانستان،، چین کا افغانستان اور پاکستان میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار اور ثالثی کی پیشکش کرنا درحقیقت خطے میں قیام امن کے خطرات پر قابو پانے کی کوشش ہے جس کو سراہا جا رہا ہے تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کابل اسلام آباد کشیدگی کے خاتمہ کیلئے کوشش کرنے کا وعدہ کیا ہے امید ہے جلد ہی پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کا خاتمہ ہو گا اور دونوں کے مابین مل جل کر چلنے اور قیام امن کی کوششوں کو تقویت پہنچے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں