کراچی (بیو رو چیف )ہر سال مون سون کے موسم میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں وائرل بخار، خاص طور پر ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔اگرچہ عام وائرل بخار چند دنوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن ڈینگی ایک ایسا مرض ہے جو بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق، گھر پر آرام سے صحت یابی اور اسپتال میں داخلے کی نوبت آنے کے درمیان فرق صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ مریض یا اس کے اہل خانہ نے علامات کو بروقت پہچانا یا نہیں۔ماہرین صحت کہتے ہیں، ڈینگی یا دیگر وائرل انفیکشنز کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بروقت پہچان اور فوری طبی امداد ہی سب سے موثر طریقہ کار ہے۔ڈینگی بخار کی ابتدا میں اس کی علامات عام وائرل بخار جیسی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق، ابتدائی علامات میں تیز بخار، شدید سر درد، جسمانی کمزوری ، متلی، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد شامل ہیں۔تاہم ڈینگی کی کچھ مخصوص اور شدید علامات وقت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں آنکھوں کے پیچھے درد، جلد پر سرخ دھبے، پلیٹلیٹس کی سطح میں تیزی سے کمی (تھرمبوسائٹوپینیا) ناک یا مسوڑھوں سے خون آنا، جسم پر نیل یا سرخ دھبے پڑنا۔ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فورا ًقریبی ہسپتال کی ایمرجنسی میں رجوع کریں۔




