ڈیٹا انٹری آپریٹرز کا انوکھا کارنامہ،رمضان نگہبان پیکج کے پے آرڈرمسیحی گھرانوں کو جاری

جڑانوالہ(نامہ نگار)ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور متعلقہ حکام کی مبینہ غلطی سے کرسچن کمیونٹی کے گھرانوں کو بھی رمضان نگہبان پیکج کے پے آرڈرز جاری ہونے کا بڑا انکشاف،وزیر اعلی ٰپنجاب مریم نواز شریف سے فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے رمضان نگہبان پیکج 2025 کا اعلان کیا گیا اور سستے رمضان بازار لگانے کی بجائے 10 ہزار روپے رمضان پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا جسکے تحت شہریوں کے کوائف کا اندراج کرنے کیلئے صوبہ بھر کے اضلاع و تحصیلوں کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت جاری کی گئی کہ اپنی نگرانی میں شہریوں کے کوائف کا اندراج اور انتظامات چیک کریں اور چھان بین کے بعد حتمی فہرست مرتب کی جائے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر جڑانوالہ میں بھی رمضان نگہبان پیکج کائونٹرز قائم کئے گئے اور ڈیوٹی پر موجود ڈیٹا انٹری آپریٹرز کو سخت ہدایت جاری کی گئی تھی کہ کوائف کا اندراج میرٹ پر کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندان رمضان نگہبان پیکج کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں جڑانوالہ میں ڈیٹا انٹری آپریٹرز کی جانب سے رمضان نگہبان پیکج کے کوائف کے اندراج میں مبینہ غلطیوں کا انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے جڑانوالہ میں تقریبا 44 ہزار گھرانوں کو رمضان نگہبان پیکج کے پے آرڈرز جاری ہو چکے ہیں ذرائع کے مطابق جڑانوالہ میں کرسچن کمیونٹی کے درجنوں گھرانوں کے نام پر رمضان نگہبان پیکج کے پے آرڈرز جاری ہو چکے ہیں جس نے ڈیٹا انٹری آپریٹرز کی مجرمانہ غفلت اور پے آرڈرز جاری کرنیوالے متعلقہ حکام کی غلطیوں کو عیاں کر دیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے میرٹ پر رمضان نگہبان پیکج کی تقسیم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جڑانوالہ میں کرسچن کمیونٹی کے گھرانوں کے نام رمضان نگہبان پیکج کے پے آرڈرز جاری ہونے پر مسلم کمیونٹی کے افراد نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیٹا انٹری آپریٹرز کے اندراج کے بعد متفقہ حکام کی مبینہ مجرمانہ غفلت کا فی الفور نوٹس لیا جائے اور اعلیٰ سطحی انکوائری کے تحت صوبہ بھر کے دیگر شہروں میں بھی جاری ہونیوالے رمضان نگہبان پیکج کے پے آرڈرز کی چھان بین کروائی جائے جبکہ رمضان نگہبان پیکج کے تحت کرسچن کمیونٹی کے گھرانوں کے نام پر جاری ہونے والے پے آرڈرز کو منسوخ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں