لاہور(بیورو چیف)سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ کراچی دنیا کا چوتھا بدترین شہر ہے اور اسے یہاں تک پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی نے پہنچایا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کراچی سے بھی بدتر 3 شہروں میں سے 2 اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہیں، جبکہ تیسرے شہر میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران سیکڑوں افراد قتل ہوئے،یہ وہ کراچی ہے جہاں پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی نے ہمیں پہنچا دیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جیسے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی، اس نے موثر اور بااختیار مقامی حکومت کا نظام ختم کر دیا اور یہاں تک کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم میں بھی اس نے موثر مقامی حکومت کی کسی بھی تجویز کردہ نظام کی مخالفت کی،سندھ کے کسی بھی حصے میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے تمام رہائشیوں کے ساتھ امتیازی سلوک رکھا ہے، خواہ معاملہ سرکاری ملازمتوں کا ہو، ترقیاتی کاموں کا یا حتی کہ پینے کے پانی کی فراہمی کا، صوبے کی 38 فیصد آبادی کے لیے یہ صوبے کے پانی کے حصے میں سے 1 فیصد دینے پر بھی آمادہ نہیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اب بااثر حلقے حقیقی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات کر رہے ہیں، خواہ یہ اختیارات مقامی حکومتوں، انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کو منتقل کرنے کی صورت میں ہو۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ عمل کہاں جا کر رکے گا لیکن کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہے اور وہ بھی فوری طور پر ہونا چاہیے۔انہوں نے مزیدکہا کہ جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ ایک ماہ کراچی میں گزاریں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، ہر طرف پھیلے کچرے، پینے کا پانی خریدنے کی مجبوری، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، مین ہولز میں گرکر بچوں کی ہلاکتوں اور گلیوں میں جمع ہونے والے گندے اور گٹر کے پانی کا تجربہ کریں۔کسی تھانے کا چکر لگانا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا، یا کسی جائیداد کا اندراج کروانا ان کی سوچ کو مزید واضح کر دے گا، تب انہیں سمجھ آئے گی کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کراچی میں زندگی گزارنا کیسا ہے۔




