کرونا کے خواتین کی رگوں پر دیر پا اثرات کا انکشاف

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا بھر میں کووڈ-19 کے صحت پر دیرپا اثرات پر تحقیق جاری ہے۔ اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے یہ خدشہ مزید بڑھا دیا ہے کہ یہ وائرس صرف وقتی انفیکشن نہیں بلکہ دل اور خون کی نالیوں پر بھی طویل مدتی نقوش چھوڑ سکتا ہے، اور اس حوالے سے خواتین زیادہ خطرے میں نظر آتی ہیں۔یورپیئن ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق کووڈ-19 خواتین کی شریانوں کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے متاثر کر سکتا ہے، جس سے ان کی رگوں کی عمر اوسطا پانچ سال تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ اثرات ان مریضوں میں بھی دیکھے گئے ہیں جنہیں کووڈ کی ہلکی علامات تھیں۔یہ تحقیق جسے کارٹیزین اسٹڈی کہا جاتا ہے، میں 16 ممالک کے 2,390 افراد شامل تھے۔ شرکا میں نصف خواتین تھیں اور ان کی اوسط عمر 50 سال تھی۔ ان افراد کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا، وہ جو کووڈ سے محفوظ رہے، وہ جو انفیکشن کے باوجود اسپتال داخل نہیں ہوئے، اسپتال میں داخل ہونے والے مریض، اور انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) تک پہنچنے والے مریض۔ماہرین نے مریضوں کی شریانوں کی سختی جانچنے کے لیے کیرٹڈ-فیمرل پلس ویو ویلاسٹی (PWV) ٹیسٹ استعمال کیا۔ چھ اور بارہ ماہ بعد کیے گئے ٹیسٹ میں پتہ چلا کہ کووڈ سے متاثرہ خواتین میں یہ شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی جبکہ مردوں میں ایسا فرق ظاہر نہیں ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق، ہلکی علامات والی خواتین میں PWV کی اوسط شرح 0.55 میٹر فی سیکنڈ بڑھی، ہسپتال میں داخل مریضوں میں 0.60، اور ICU مریضوں میں 1.09 تک پہنچ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں