سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے نے پوری امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، سعودی عرب مسلمانوں کے لیے ایک ایسی مقدس جگہ ہے جہاں ہر سال عالم اسلام حج کی سعادت کیلئے جمع ہوتے ہیں اور رنگ ونسل کی تمیز کے بغیر تمام مسلمان ہی ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں، اسلامی یگانگت کا یہ دل فریب منظر پوری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ اسلام کی آبیاری بھی اسی خطے سے ہوئی، عالم اسلام اسی خطے کی بدولت ہر سو پھیلا ہوا ہے اور حوثیوں کے یہاں پر حملے نے عالم اسلام کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے اشتعال انگیز فوجی کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کر دیا تاکہ دنیا کا امن برقرار رہے۔ سلامتی کونسل ارکان نے سعودی عرب میں شہریوں’ توانائی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں’ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری آمدورفت کو درپیش خطرات کی بھی مذمت کی گئی۔ رکن ممالک نے حوثیوں تک اسلحہ’ فوجی تربیت’ تکنیکی معاونت اور مالی وسائل کی رسائی روکنے کیلئے عملی اقدامات پر زور دیا اور حوثیوں سے اقوام متحدہ کے 37 اہلکاروں سمیت زیرحراست افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے باب المندب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں اور عملے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملوں کو فوری بند کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا۔ ایسے اشتعال انگیز اقدامات سمندری سلامتی اور علاقائی امن واستحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری’ سالمیت اور خوش حالی کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے پر زور دیا ہے اور کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔ سعودی عرب نے ریاض میں کسی حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آگ حادثے کی وجہ سے لگی، سعودی سول ڈیفنس کے مطابق جدہ’ طائف اور ینبع میں بھی خطرے کی وارننگ کچھ دیر بعد واپس لے لی گئی۔ سعودی کمانڈر عبداﷲ بن سالم الشہری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ عالمی بحری سلامتی کو لاحق ہر خطرے کا سدباب کیا جائیگا، کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کی آپریشنل صلاحیت مکمل طور پر بحال ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایاالاس نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں صورتحال خراب ہونے کے بعد اپنے بحری جہازوں کی تیاری کی سطح بڑھا دی ہے۔ حوثی کارروائیوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی میں شدت اور باب المندب کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی سے بحری سلامتی کے خدشات بڑھے ہیں۔ پاکستان نے بھی سلامتی کونسل میں آزادانہ بحری آمدورفت’ تجارتی جہازوں اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر زور دیا اور سعودی عرب کی سلامتی وخودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مؤثر سفارتی کوششیں تیز کرے اور بحیرہ احمر’ باب المندب اور دیگر اہم بحری راستوں کو سیاسی یا عسکری کشمکش کا میدان بننے سے روکے۔ اگر بحری آمدورفت میں رکاوٹیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات تیل’ خوراک’ ادویات اور عالمی تجارت کی لاگت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے پائیدار امن’ آزادانہ بحری آمدورفت اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہی خطے اور عالمی معیشت کے مفاد میں ہیں۔




