فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) مرکزی علما کونسل پاکستان کے زیر اہتمام ختم نبوت اسلامک ریسرچ سنٹر فیصل آباد میں 5،اگست یوم استحصال و اظہار یکجہتی کشمیرسیمینار چیئرمین مرکزی علما کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ 5اگست یوم استحصال و اظہار یکجہتی کشمیر۔ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو روندتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا اور کشمیر ی عوام کے بنیادی حقوق پر حملہ کیا بلکہ پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑنے والی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ پاکستان میں 5۔ اگست کو یوم استحصال کے طورپر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو باور کرایا جاسکے کہ کشمیرآج بھی ظلم کی چکی میں پس رہا ہے اور کشمیری عوام آج بھی اپنے حق خود ارادیت کے منتظر ہیں۔ سیمینار سے میاں محمد طیب ایڈووکیٹ، علامہ حفیظ الرحمن کشمیری،مولانا اعظم فاروق، مولانا عابد فاروقی،مولانا عامر اشرف، مولانا نعیم طلحہ،مولانا الطاف اللہ فاروقی،مولانا کرم داد حذیفی،مولانا عمر فاروق، قاری ثاقب عزیز نے خطاب کیا۔بھارت نے5۔ اگست2019 کو اپنے آئین کی دفعات 370 اور A-35 کو ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کا خاتمہ کیا۔ بھارت کا یہ اقدام محض آئینی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی، معاشرتی،تہذیبی حملہ تھا جس کا مقصد کشمیریوں کی شناخت مٹانا اور خطے میں ہندو آبادی کوبسا کر نیا نو آبادیاتی ماڈل نافذ کرنا تھا۔ اس غیر آئینی فیصلے کے بعد وادی کشمیر کو مکمل طور پر محصور کردیا گیا۔ بھارت کے یہ تمام اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی ان قرار دادوں کی کھلی توہین بھی ہے جن میں کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے تعین کیلئے رائے شماری کا وعدہ کیا گیا تھا۔مرکزی علما کونسل پاکستان عالمی قوتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کروائے اور کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دیا جائے۔آج کے دن ہم کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں کہ آج بھی کشمیری عوام جبر کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہیں اور اپنی آزادی کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں۔ یوم استحصال ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔یہ صرف خطہ نہیں بلکہ ایک تاریخی قرض، ایک ملی فریضہ اور ایک انسانی پکار ہے۔




