اسلام آباد ( بیو رو چیف )اب ایسا دفتر میں کمپیوٹر سے جڑے کسی کام کے لیے ہو، گھر میں لیپ ٹاپ پر ویب برازنگ یا ویڈیوز دیکھنے یا کسی بھی مقصد کے لیے کی بورڈ کا استعمال لازمی ہوتا ہے۔مگر بظاہر عام سی یہ چیز اپنے اندر متعدد راز چھپائے ہوئے ہے۔جی ہاں واقعی کی بورڈ میں متعدد ایسی چیزیں چھپی ہیں جن پر لوگ غور نہیں کرتے یا انہیں ان کا مقصد ہی معلوم نہیں ہوتا۔اگر آپ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے ساتھ کی بورڈ کو استعمال کر رہے ہیں تو علم ہوگا کہ ان کے نیچے دائیں اور بائیں کونے میں 2 پیر موجود ہوتے ہیں۔ان کو کی بورڈ فٹ (feet) کہا جاتا ہے اور لوگ انہیں اکثر سپاٹ سطح پر رکھے کی بورڈ کو ذرا اوپر کرکے ٹائپنگ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔مگر ان کا استعمال کرنے یا نہ کرنے کا تعین اس پر ہوتا ہے کہ آپ کی بورڈ ٹائپنگ میں کس حد تک مہارت رکھتے ہیں۔کی بورڈ فٹ استعمال کرنے سے لوگوں کو کی بورڈ کے بٹنوں یا کیز (keys) کو زیادہ بہتر طور پر دیکھنے میں مدد ملتی ہے، خاص طور پر اگر آپ کی بورڈ کو دیکھ کر ٹائپ کر رہے ہیں۔مگر جو افراد کیز کو دیکھے بغیر ٹائپ کرتے ہیں، وہ اگر کی بورڈ فٹ کو استعمال کرتے ہیں تو اس سے کلائی کا زاویہ غیرفطری ہو جاتا ہے جس سے کلائیوں یا کہنی میں دبا بڑھتا ہے۔کسی بھی کمپیوٹر کی بورڈ کو دیکھیں تو ایف اور جے کیز دیگر سے مختلف نظر آئیں گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایف اور جے کیز میں لکیریں موجود ہوتی ہیں۔مگر ایسا کیوں ہوتا ہے اور باقی کیز میں یہ لکیریں کیوں نہیں ہوتیں؟اس کا جواب کافی دلچسپ ہے۔ایف اور جے کیز کو ہومنگ بارز بھی کہا جاتا ہے اور ان پر موجود لکیریں ایک خاص مقصد کے لیے ہوتی ہیں۔بنیادی طور پر اس کا مقصد دونوں ہاتھوں سے ٹائپنگ کے دوران کی بورڈ پر نظر ڈالے بغیر ٹائپ کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔یعنی بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی ایف اور دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی جے پر رکھیں اور پھر ٹائپنگ شروع کریں۔ایسا کرنے سے آپ کو اپنی نظریں اسکرین پر رکھتے ہوئے ٹائپ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ان لکیروں سے آپ کے دماغ کو معلوم ہوتا ہے کہ ٹائپنگ کے لیے ہاتھ درست پوزیشن پر ہیں کیونکہ وہ لکیریں انگلیوں کو محسوس ہوتی ہیں۔ان لکیروں سے دماغ کو علم ہو جاتا ہے کہ ایف، ڈی، ایچ یا دیگر کیز کس جگہ پر ہیں اور ٹائپ کرتے ہوئے انگلیوں کو کہاں لے کر جانا ہے۔




