کے پی میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات ناپید

پشاور(بیورو چیف)خیبر پختونخوا کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق بڑھ کر 4 کروڑ 86 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ آبادی میں سالانہ 2.38 فیصد اضافے کے باعث صحت، تعلیم، پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔پاپولیشن کونسل اور اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے منعقدہ میڈیا کولیشن آن پاپولیشن کے اجلاس میں ماہرین نے کہا کہ بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیف پاپولیشن کاظم سلمان نے کہا کہ وفاقی حکومت آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جبکہ آبادی کا معاملہ وزیراعظم کے ایجنڈے میں اہم ترجیح بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے گا۔پاپولیشن کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے کہا کہ آبادی میں اضافہ صرف اعدادوشمار کا مسئلہ نہیں بلکہ پانی، زرعی زمین، خوراک، شہری پھیلاؤ، تعلیم اور صحت سے براہ راست منسلک ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی اور محدود وسائل کے درمیان توازن پیدا کرنا ناگزیر ہے۔پاپولیشن کونسل کی ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر ارم کامران نے کہا کہ غریب اور دور دراز علاقوں کی خواتین تک خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات پہنچانے کے لیے عملی اور آسان ماڈلز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں