گاڑیوں پربھی سائبر حملے

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) گاڑیوں میں اوور دی ایئر (OTA)ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے سائبر سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہیماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس شعبے میں مزید نگرانی اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔سی این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اوور دی ایئر ٹیکنالوجی ایک وائرلیس نظام ہے جس کے ذریعے گاڑیوں کے سافٹ ویئر، فرم ویئر اور دیگر سسٹمز کو بغیر ورکشاپ گئے اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے بڑے پیمانے پر 2012 میں ٹیسلا نے اپنی ماڈل ایس گاڑیوں میں متعارف کرایا، جس کے بعد یہ پورے آٹو سیکٹر میں عام ہوتی گئی۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی تیز اور کم لاگت اپ ڈیٹس کے لیے مفید ہے، تاہم اس کے ساتھ سکیورٹی خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ برطانیہ کی سوانزی یونیورسٹی کے پروفیسر سراج احمد شیخ کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روایتی سسٹمز کے مقابلے میں زیادہ آسان ضرور ہے، مگر اسے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے۔سنگاپور کے سکیورٹی ماہر گیبریل لم کے مطابق اوور دی ایئر ٹیکنالوجی قومی سلامتی کے لیے ایک منفرد خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ کسی غیر ملکی عنصر کی جانب سے گاڑیوں کے کنٹرول سسٹم میں مداخلت ممکن ہو سکتی ہے۔اسی حوالے سے ناروے، ڈنمارک اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر کسی نے سسٹم ہیک کر لیا تو چلتی ہوئی گاڑی کو روکا یا اس کا کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ سال ناروے کی بس کمپنی روٹر نے ایک تجربے کے دوران دریافت کیا کہ ایک بس کے کنٹرول سسٹم تک موبائل نیٹ ورک کے ذریعے رسائی ممکن تھی، یعنی بس کو دور سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔اس واقعے کے بعد برطانیہ اور ڈنمارک نے بھی تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ امریکی تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ آٹو سیکٹر کو محفوظ بنانا غیر ملکی جاسوسی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اوور دی ایئر ٹیکنالوجی صرف گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ ریلوے، بحری جہاز، ڈرونز اور صنعتی مشینری میں بھی استعمال ہو رہی ہے، جس سے اس کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں اور کمپنیوں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں شفافیت، احتساب اور مضبوط سکیورٹی نظام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ممکنہ سائبر حملوں سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں