فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) فیصل آباد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے سابق نائب صدر سپریم انجمن تاجران و کریانہ مرچینٹس ایسوسی ایشن گول کریانہ بازار کے صدر حاجی محمد اسلم بھلی، جنرل سیکرٹری شیخ محمد فاضل اور سینئر عہدیدداروں نے پا لیسی میکروں کی جانب سے بجلی کے شعبہ کی طرح گیس سیکٹر کا2800 ارب روپے کے گردشی قرضے کا تمام تر بوجھ گیس صارفین پر ڈالنے کی حکمت عملی کی تیاری کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمدشہازشریف اوروفاقی وزیر خزانہ محمداورنگزیب سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ پالیسی میکروں کی ایسی کسی بھی تجاویز کو منظور نہ کیا جائے بصورت دیگر ایسے اقدام سے ا سمان کو چھوتی مہنگائی و بیروزگاری ،ملک کی بدترین معاشی صورتحال ،انتہائی محدود کاروباری سرگرمیوں، قیمتی زرمبادلہ کمانے والی دم توڑتی صنعتوں اورایکسپورٹ میں مسلسل کمی کو تقویت ملے گی ۔حاجی محمد اسلم بھلینے کہا کہ مہنگی بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں اضافہ کے منفی اثرات تاجروں اورعام آدمی تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے مہنگائی نے ہر طبقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اب اگرگیس سیکٹر کا2800 ارب روپے کے گردشی قرضے کا بوجھ گیس صارفین پر ڈالاگیا تو ملک وقوم کیسے ترقی کریگی انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجر اورعوام دوست ماحول پیداکیا جائے اس سے ملک کی معیشت کو سنوارنے، ٹیکس کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکے۔




