ہرمز پر انحصار کم کرنے کیلئے عراق اور ترکی کا تیل معاہدہ

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق اور ترکی نے تیل کی برآمدات بڑھانے کے لیے اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت عراقی خام تیل کو پائپ لائن کے ذریعے ترکی کی بحیرہ روم میں واقع سیہان بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا۔عراقی وزیر تیل باسم محمد خضیر العبادی کے مطابق معاہدہ ایک سال کے لیے مثر ہوگا، جبکہ اس دوران دونوں ممالک تیل، بجلی اور آبی وسائل میں تعاون سے متعلق ایک جامع فریم ورک معاہدہ بھی تیار کریں گے۔معاہدے کے تحت کرکوک سے سیہان تک جانے والی پائپ لائن کے ذریعے یومیہ کم از کم ساڑھے سات لاکھ (7 لاکھ 50 ہزار) بیرل خام تیل برآمد کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد عراق متبادل برآمدی راستے تلاش کر رہا ہے۔یہ پائپ لائن 2023 سے زیادہ تر غیر فعال تھی، تاہم گزشتہ سال محدود پیمانے پر اس کے ذریعے برآمدات دوبارہ شروع کی گئی تھیں۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے معاہدے کو ملک کی توانائی برآمدات کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تیل کی بلا تعطل ترسیل اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔عراق اس وقت اپنی زیادہ تر تیل برآمدات جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے کرتا ہے، جبکہ حکومت مستقبل میں بصرہ سے ترکی اور شام تک نئی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں