12ارب کی بجلی چوری،مزید گرفتاریاں متوقع

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے ایف آئی آر نمبر 35/2026بجرم دفعات 5(2)/47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ بمعہ دفعات 34، 109، 409، 419، 420، 467، 468 اور 471 تعزیراتِ پاکستان کے تحت میسرز ستارہ انرجی لمیٹڈ (SEL) اور میسرز ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (SCIL) کے پانچ ڈائریکٹرز/چیف ایگزیکٹو افسران اور فیسکو کے چار سابق چیف ایگزیکٹو افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007سے 2015کے دوران مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے بجلی کی خرید و فروخت کے نظام میں غیر قانونی رد و بدل کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً 12ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور ناجائز مالی فوائد حاصل کیے، تحقیقات کے مطابق ستارہ گروپ آف انڈسٹریز نے میسرز SELاور SCILکے ذریعے فیسکو کے بعض اعلیٰ حکام کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے بجلی کی تجارت میں بے ضابطگیاں کیں۔ SELنے مبینہ طور پر CPPAسے منظور شدہ نرخوں کے برعکس فیسکو کو بجلی زائد نرخوں پر فروخت کی، جبکہ اسی دوران بلک پاور کنزیومرز (BPCs) کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کی گئی۔ دوسری جانب SCILنے مبینہ طور پر فیسکو سے رعایتی نرخوں پر بجلی حاصل کر کے ناجائز مالی فائدہ حاصل کیامزید برآں، تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ SEL نے مبینہ طور پر SNGPLکے سامنے خود کو کیپٹو پاور پلانٹ (CPP)ظاہر کر کے سبسڈی یافتہ گیس حاصل کی، جبکہ NEPRAکے سامنے خود کو سمال پاور پروڈیوسر (SPP) ظاہر کیا، جس کے لیے مبینہ طور پر گمراہ کن اور جعلی دستاویزات استعمال کی گئیں تحقیقات کے دوران فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹو افسران خورشید عالم اور احمد سعید خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ معزز عدالت نے دونوں ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ دیگر ملزمان کو بھی تحقیقات کی تکمیل تک ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے، ایف آئی اے بدعنوانی، مالیاتی فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر یقین رکھتی ہے۔ ادارہ قانون کی بالادستی اور شفاف احتساب کے اصولوں کے تحت، اثر و رسوخ یا عہدے سے بالاتر ہو کر، ہر ملوث شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے گا۔ اس مقدمے کی تحقیقات مزید جاری ہیں اور تحقیقات میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں