15سالہ طالب علم کا قتل،2طالب علموں کیساتھ مدرسہ کا قاری بھی ملوث نکلا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) بٹالہ کالونی کے علاقہ بوٹا چوک میں مدرسہ کے 15سالہ طالب علم کے قتل میں مدرسہ کا قاری بھی گرفتار جو کہ مقتول اور گرفتار طالب علموں سے غیر اخلاقی حرکات کرنے میں ملوث نکلا، مقتول طالب علم 15سالہ شعیب کی نعش ٹھکانے لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔ تفصیل کے مطابق مقتول شعیب دو روز قبل لاپتہ ہوا تھا اور بوٹا چوک میں واقع مدرسہ کے قاری رفاقت علی نے شعیب کے گھر فون کر کے بتایا کہ شعیب صبح سے لاپتہ ہے، آپ بھی ڈھونڈیں، تاہم نہ ملنے پر تھانہ بٹالہ کالونی میں والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی۔ سی پی او تنویر حسین نے نوٹس لیتے ہوئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کا ٹاسک دیا تو پولیس نے شک ہونے پر مدرسہ کے دو طالب علموں ریحان’ عرفان اور قاری رفاقت کو حراست میں لیکر بازپرس کی تو انہوں نے اعتراف جرم کر لیا۔ پکڑے جانے والے قاری رفاقت بچوں سے بدفعلی میں ملوث تھا اور اسے ڈر تھا کہ ذہین طالب علم شعیب اس کا پول نہ کھول دے۔ قاری نے طالب علم شعیب سے حسد رکھنے والے دیگر دو طالب علموں ریحان اور عرفان کو قتل کرنے پر اکسایا، طالب علموں نے ساتھی کی ٹانگیں چارپائی سے باندھ کر گلہ دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور نعش بوری میں بند کر کے سائیکل پر رکھ کر گندے نالے میں پھینک دی جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تاہم پولیس نے طالب علم کے قتل میں ملوث قاری رفاقت’ دو طالب علموں ریحان اور عرفان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں