28ویں آئینی ترمیم ‘BIPختم’NFCایوارڈ میں کٹوتی کا امکان

اسلام آباد (عظیم صدیقی) سیاستدانوں کیلئے آنے والے ہفتے اہمیت اختیارات کرتے جا رہے ہیں، پارلیمان میں مشاورت ہو رہی ہے حکومت اور اپوزیشن 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک بھی ہو سکتے ہیں۔ اب تک کی حاصل معلومات اور اطلاعات کے مطابق گورنر راج کے نفاذ اور توثیق کا اختیار پارلیمنٹ سے واپس لینے’ نئے صوبوں کے قیام کیلئے قرارداد کا اختیار صوبائی اسمبلی سے واپس لے کر آئینی وفاقی عدالت کو دیا جائیگابے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کر کے 780 ارب روپے وفاقی خزانے میں رہنے دینے کی تجویز ہے۔ صوبوں کو 18 ویں ترمیم کے تحت NFC ایوارڈ بڑی کٹوتی کرنے اور رقم واپس وفاق کو دینے’ تعلیم وصحت کی وزارتوں کے صوبائی اختیارات ایک بار پھر وفاق کو واپس کرنا جنگی حالات میں قومی صوبائی اسمبلیوں کی مدت کار میں اضافہ کرنا بھی زیرغور ہے۔ وفاقی وزارت قانون ابھی تک مسودہ ترمیم ملنے سے انکاری ہے لیکن نکات سے آگاہ ہے یہ ترمیم بجٹ سے پہلے یا بعد میں آئیگی کسی کو بھی علم نہیں ہے لیکن یہ ترامیم مصدقہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں