688 سال پرانے قتل کیس کی دوبارہ تفتیش

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )تاریخ کے اوراق میں اکثر ایسے واقعات دفن ہو جاتے ہیں جن کی حقیقت وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہے۔ لیکن 1337 میں ہونے والا ایک پادری کا قتل آج پھر سرخیاں بن گیا ہیجب اس کے پیچھے چھپے سازشی کردار اور خفیہ رشتے سامنے آنا شروع ہوئے۔ یعنی ایک پادری، ایک اشرافیہ خاتون، اور ایک خونی سازش۔ قرونِ وسطی کا یہ قتل اب صرف پرانی کہانی نہیں رہا، یہ ایک ایسا مقدمہ بن چکا ہے جو آج بھی انسانی فطرت کے سیاہ گوشوں پر روشنی ڈالتا ہے۔1337 کی ایک شام، لندن کے اولڈ سینٹ پالز چرچ کے قریب ایک پادری، جان فورڈ، پر حملہ ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ گرجا کے سامنے پہنچا، ایک پادری اس سے باتوں میں الجھاتا ہے اور باقی تین حملہ آور، خاتون کا بھائی اور دو نوکر، اس پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ گلے پر چاقو کا وار، پیٹ میں گھونپا گیا خنجر، اور چند لمحوں میں جان فورڈ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ایک مذہبی شخص کے پیچھے اتنی نفرت کیوں؟تاریخی ریکارڈز اور حالیہ تحقیق کے مطابق، پادری اور ایلا خاتون نہ صرف عاشق تھے بلکہ جرائم میں بھی شریک تھے۔ دونوں نے 1322 میں فرانس کے زیرِ انتظام ایک خانقاہ پر حملہ کیا، جہاں سے درجنوں جانور چرائے گئے۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد، پادری نے اپنی محبوبہ کو بے نقاب کر دیا۔ اور آرچ بشپ آف کینٹربری نے ایلا نامی خاتون پر بدکاری اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اسے عوامی توبہ کا حکم دیا، بطور سزا، ایلا کو ہر سال ننگے پیر سالسبری کیتھیڈرل میں موم بتی کے ساتھ پیدل چل کر توبہ کرنی تھی۔ لیکن وہ یہ ذلت برداشت نہ کر سکی، اور بدلے کی آگ میں جل اٹھی۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ذلت اس خاتون کی جانب سے پادری کے قتل کا سبب بنی۔ کورونر کی رپورٹ میں درج ہے کہ ایلا خاتون نے اپنے بھائی، دو نوکروں اور ایک پادری کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ صرف ایک قاتل کو پانچ سال بعد سزا ہوئی، باقی سب بچ نکلے۔تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس اس دور میں طاقت، رسوائی اور انتقام کے پیچیدہ تعلقات کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ بھی کہ قرونِ وسطی میں خواتین بعض اوقات قانون اور سماج سے بالاتر ہوکر ایسے جرائم کر گزرتی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں