حکومت کا امریکہ سے10فیصد خام تیل اور پٹرول درآمد کرنے پر غور

اسلام آباد (بیوروچیف) وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پاکستانی حکام سنجیدگی سے ایک تجویز پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت امریکہ سے 10فیصد خام تیل اور پٹرول درآمد کیا جائے گا، تاکہ برآمدات کو بچایا جا سکے جو اب 6ارب ڈالر تک بڑھ چکی ہیں۔ امریکی صدر پہلے ہی پاکستان پر 10فیصد بنیادی ٹیرف کے علاوہ 29 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر چکے ہیں۔ تاہم دیگر ممالک کی طرح، پاکستان پر عائد کیے گئے یہ ٹیرف بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 90 دن کے لیے معطل کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر ہے جو پاکستان کے حق میں ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ نے یہ ٹیرف 180 ممالک کے ساتھ تجارتی عدم توازن کے پیشِ نظر عائد کیے ہیں۔ تقریبا 75 ممالک نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ٹیرف پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ اپنا تجارتی خسارہ کم کیا جا سکے اور ان ٹیرف سے بچا جا سکے جو 90 دن کی معیاد ختم ہونے کے بعد نافذ العمل ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ سے درآمد کیا جانے والا خام تیل اور پٹرول متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ہونے والی درآمدات کے مقابلے میں فی بیرل 3 ڈالر مہنگا ہوگا، اور اس کی بنیادی وجہ نقل و حمل کے اخراجات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں