افغان حکومت کی بے حسی،پاکستان سے بیدخل مہاجرین دربدر

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سے بے دخل کیے گئے متعدد افغان مہاجرین نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس افغانستان میں رہائش کے لیے گھر نہ موجود ہے اور نہ ہی زمین جس پر وہ کوئی گھر تعمیر کر سکیں۔ ان مہاجرین نے عبوری افغان حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔پاکستان سے واپس جانے والے افغان شہری بختیار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہماری ساری فصلیں اور مویشی برباد ہو گئے۔ یہ مسائل اس وقت شروع ہوئے جب ہم پر چھاپے مارے گئے۔ میرا بیٹا بیارزادہ بھی گرفتار ہوا، اور جو لوگ گھروں میں تھے، انہیں بھی واپس بھیج دیا گیا۔ایک اور مہاجر محمد نبی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں افغانستان میں ہمارے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ ہمارے پاس نہ گھر ہیں، نہ زمین۔ ہمارا سارا سامان باہر پڑا ہے۔ نہ ملازمت ہے اور نہ ہی کسی نے ہمارے لیے روزگار کا بندوبست کیا ہے۔ لیکن اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت رہائش ہے۔ادھر افغانستان کی وزارت شہری ترقی کا دعوی ہے کہ وطن واپس آنے والے مہاجرین کے لیے ملک بھر میں درجنوں رہائشی کالونیاں قائم کی جا چکی ہیں۔وزارت کے ترجمان کمال افغان کے مطابق، وزارت شہری ترقی و رہائش، جو مستقل رہائشی کمیٹی کی سربراہی کرتی ہے، اب تک بے دخل کیے گئے مہاجرین کے لیے ملک بھر میں 60رہائشی کالونیاں تیار کر چکی ہے، جبکہ ہمارے صوبائی دفاتر مزید کالونیوں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔عالمی ادارہ خوراک (WFP)کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی میں اضافہ ہوا ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید 16لاکھ افراد کی واپسی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی امداد کی معطلی اور مہاجرین کی واپسی نے افغانستان کے انسانی بحران کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور ایران نے غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور اگست 2021سے اب تک 27لاکھ سے زائد افراد واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ 2025میں یہ رجحان مزید تیز ہو چکا ہے، خاص طور پر پاکستان میں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت کارروائی کے باعث ہزاروں افراد یا تو ملک بدر کیے جا رہے ہیں یا خود واپسی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس سے سرحدی صوبوں میں موجود میزبان کمیونٹیز اور سہولیات پر شدید دبا ہے۔مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن جمعہ خان پویا نے زور دیا ہے کہ نفسیاتی مشاورت، مالی امداد، نقل و حمل اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بین الاقوامی تنظیموں خصوصا انسانی امدادی اداروں کی ذمہ داری ہے، اور یہ سہولیات افغان مہاجرین کو فوری طور پر فراہم کی جانی چاہئیں۔ادھر ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کی بین الاقوامی کمیٹی نے بتایا ہے کہ یکم سے 7اپریل 2025کے درمیان 1,825افغان خاندان، جن میں 12,775افراد شامل ہیں، طورخم اور اسپن بولدک کے راستے وطن واپس آ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں