اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس صحت عامہ اور ترقی کیلئے عالمی خطرہ بن چکا ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) بیکٹریا میں اینٹی بائیوٹک کیخلاف بڑھتی ہوئی قوت مدافعت انسانو ں اور جانوروں کی صحت کے لئے ایک عالمی سنگین مسئلے کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ جس پر قابو پانے کے لئے شعبہ جاتی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس کے زیر اہتمام سٹیک ہولڈر ورکشاپ برائے ”اینٹی مائیکروبیل کے استعمال کو کم کرنے کے لئے اقدامات” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آن لائن سے خطاب کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس صحت عامہ اور ترقی کے عالمی خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور جراثیم کی نشوونما اور اینٹی مائیکروبیل ادویات کے اثرات کے خلاف مزاحم بننے کی صلاحیت ہے جس سے انفیکشن کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں میں اینٹی مائیکروبیل کا زیادہ استعمال قابل تشویش ہے۔ ڈی جی ریسرچ محکمہ لائیو سٹاک حکومت پنجاب ڈاکٹر سجاد حسین نے اس مسئلے کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو کم کرنے میں بہترین طریقوں اور تحقیقی نتائج کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس زرعی یونیورسٹی میں جاری تحقیقات کو سراہا۔انٹرنیشنل سینٹر فار اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس سلوشنز کے ڈاکٹر روڈولفے میڈر نے کہا کہ وہ مداخلتی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ باہمی تعاون’پائیدار حل تیار کرنے کے لیے پوری دنیا کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں نے کہا کہ جراثیم کش ادویات کا کثرت سے استعمال، صاف پانی تک رسائی کا فقدان ،انسانوں اور جانوروں کے لیے حفظان صحت کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود نے کہا کہ اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت قدرتی طور پر وقت کے ساتھ ساتھ عام طور پر جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون ہیلتھ کے تحت انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحولیات میں مصروف متعدد شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرتا ہے۔ڈاکٹر مشکور محسن نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس تیزی سے غیر موثر ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ ادویات کے خلاف مزاحمت عالمی سطح پر پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے انفیکشن اور اموات کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناقص صفائی، اینٹی بائیوٹکس کا بے قابو استعمال اور مانیٹرنگ کا مسئلہ AMR کے لیے ذمہ دار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں