نادرا کا کارنامہ’2500زندہ افراد کو مردہ قرار دیدیا

فیصل آباد (سید اظہار الحسن نقوی) نادرا کا ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے 2500 سے زائد افراد کو مردہ قرار دینے کا انکشاف’ جبکہ نادرا اپنی نااہلی چھپانے کیلئے سارا ملبہ سیکرٹریز یونین کونسل پر ڈالنے کی کوشش’اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا آغاز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق نادرا کی جانب سے سسٹم کو یونین کونسل کیساتھ آن لائن منسلک کرنے کے بعدپتہ چلا کہ معمولی شناختی کارڈ نمبر کی غلطی کی وجہ سے اڑھائی ہزار سے زائدزندہ افراد کو مردہ قرار دے دیا اور اسے کلریکل غلطی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری یونین کونسلز کی بددیانتی اور ہیراپھیری سے منسوب کر دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بات کا علم نادرا کو 10سے 15سال بعد ہوا۔ نادرا نے ضلع فیصل آباد کے مردہ افراد کی لسٹ جاری کی ہے اس میں سال 2002ء سے 2020ء تک کے اندراج پایا گیا اور نادرا نے اپنے سافٹ ویئر کی خرابی اور اپنے سٹاف کی نااہلی پر پردہ ڈالتے ہوئے اس کا ذمہ دار سیکرٹری یونین کونسل کو قرار دیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیپارٹمنٹ کو لیٹر جاری کر دیا جبکہ دوسری طرف سیکرٹری یونین کونسل کا موقف ہے کہ نادرا کی طرف سے 2022ء میں یوسی کے سسٹم کو نادرا کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت نادرا کے افسران نے فیصل آباد کی یونین کونسل کے سیکرٹریز سے سسٹم کو اپنی تحویل میں لیکر 15روز تک اس کا سافٹ ویئر اور ڈیٹا کو اپنے مرکزی سسٹم کے ساتھ منسلک اور محفوظ کیا گیا تھا جس کی بناء پر بہت سے ڈیٹا ضائع بھی ہوا تھا۔ نادرا نے مبینہ طور پر اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا ذمہ دار سیکرٹریز یونین کونسل کو قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کی جانب سے ریکارڈ کی چھان بین کا آغاز کر دیا گیا اور ریکارڈ میں درستگی کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں