ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف ہڑتال،مریض رل گئے

جڑانوالہ(صابر گھمن سے) سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے فیصلہ کیخلاف تحصیل بھر کے 6آر ایچ سی اور 51بی ایچ یو کے سینکڑوں ملازمین کی ہڑتال کے باعث ہزاروں مریضوں رل گئے، ہڑتال کے باعث مریض اور انکے ورثاء پرائیویٹ ہسپتالوں سے مہنگے داموں علاج معالجہ کروانے پر مجبور،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے اس گھمبیر صورتحال کا فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے فیصلہ کیخلاف محکمہ صحت کے ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں سراہا احتجاج بنے ہوئے ہیں تحصیل جڑانوالہ میں قائم 6 آر ایچ سی،51 بی ایچ یو سنٹرز کے سینکڑوں ملازمین نے بھی نجکاری کے فیصلہ کیخلاف مکمل طور پر کام چھوڑ دیا ہے ملازمین کی جانب سے جاری ہڑتال کے باعث مذکورہ سنٹرز پر علاج معالجہ کی غرض سے دور دراز علاقوں سے شدید گرمی کے موسم میں کئی کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے آنیوالے ہزاروں مریضوں اور انکے ورثا کو شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو انتہائی تکلیف دہ امر ہے جبکہ مریض کے ورثا نجی پرائیویٹ ہسپتالوں میں مہنگے داموں علاج معالجہ کروانے پر مجبور ہو چکے ہیں مطالبات کے حق ہڑتال کرنیوالے ملازمین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کا فیصلہ انکا معاشی قتل کرنے کے مترادف ہیں سالہا سال سے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں لہذا پنجاب حکومت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کا فیصلہ فی الفور واپس لے بصورت دیگر پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لینے تک احتجاج جاری رکھیں گے دوسری جانب عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین کی ہڑتال کے باعث انہیں پرائیویٹ ہسپتالوں میں مہنگے داموں علاج کروانا پڑ رہا ہے مہنگائی کے دور میں پرائیویٹ طور پر علاج معالجہ کروانا شہریوں کے بس میں نہیں رہا ہے لہذا حکومت مذاکرات کے ذریعے اس مسلہ کا حل نکالے تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں