پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

کراچی (بیوروچیف) بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد دونوں ایٹمی طاقتوں کے تعلقات بدترین سطح پر ہیں۔ برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی جنگ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگی، جو 15کروڑ فوری ہلاکتوں اور 3ارب افراد کی بھوک سے موت کا باعث بن سکتی ہے۔ بھارت اور پاکستان، جو 1974اور 1998کے ایٹمی تجربات کے بعد سے ایٹمی طاقتیں ہیں، مجموعی طور پر 300 ایٹمی وار ہیڈز رکھتے ہیں۔ جدید میزائل سسٹمز اور لڑاکا طیاروں سے لیس یہ ممالک ایک دوسرے کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو کے پروفیسر برائن ٹون کی تحقیق کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ 5سے 15کروڑ افراد کی فوری ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔ شہر تباہ ہو جائیں گے، زخمیوں کو امداد نہ ملے گی، اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر منہدم ہو جائے گا۔ یہ تباہی جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی۔دریں ثنائ۔
اسلام آباد (بیوروچیف) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے، بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد بے بنیاد اور بلا ثبوت الزامات لگائے، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے غیر جانبدارانہ عالمی تحقیقات کے لیے تیار ہے، تاہم دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ کی تقریب سے بطور مہمان خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روکا گیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے، پانی ہماری لائف لائن ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ 25کروڑ پاکستانی عوام متحد اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان نے دہشتگردی کو ہمیشہ اور ہر شکل میں مسترد کیا ہے، اور اس کی مذمت کی ہے، پاکستان دنیا میں دہشتگردی سے متاثرہ سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے، امن ہماری خواہش ہے، اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے 90 ہزار شہری دہشتگردی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، پاکستان کی معیشت نے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے، دنیا میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے۔تقریب میں وفاقی وزرا، غیر ملکی سفارتکاروں اور دیگر اعلی حکام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا خواہاں ہے، اور اس کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا، اور یو این چارٹر پر عمل کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ ان کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات ہوں، لیکن بدقسمتی سے افغانستان کی سر زمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے کابل کا دورہ کیا، اور باور کروایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے اور پر امن تعلقات چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے برداشت نہیں کیے جاسکتے۔شہباز شریف نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ عالمی تنازع کئی دہائیوں سے حل ہونے کا منتظر ہے، کشمیریوں نے لاکھوں جانوں نچھاور کی ہیں، تاکہ وہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں، عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتا ہے، اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم رکوائیں، ہم فلسطینی عوام کے آزاد وطن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ وہ پر امن طور پر رہ سکیں۔قبل ازیں انہوں نے پااس آٹ ہونے والے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک کا حصہ بن رہے ہیں، جس کا نظم و ضبط دنیا میں اپنی مثال آپ ہے، مسلح افواج بانی پاکستان کے رہنما اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ معاشی میدان میں بحالی کے بعد پاکستان اب بھرپور چیلنجز کے باوجود آگے بڑھنے کی راہ پر گامزن ہے، ہم کان کنی، معدنیات، دفاعی پیداوار اور کئی شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں