پاکستان کے جے10سی طیارے رافیل سے بہتر

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان دفاعی شعبے میں اہم صلاحیتیں حاصل کررہا ہے اور پاک فضائیہ کی صلاحیت میں نمایاں اور ناقابل تسخیردفاعی اضافہ چین کا تیار کردہ جدید فائٹر طیارہ جے 10سی ہے۔جے 10سی چین کا تیارہ کردہ پھرتیلا تیز رفتار کم وزن جدید لڑاکا طیارہ ہے جو دنیا کے بہترین لڑاکا طیاروں کا مقابلہ کررہا ہے۔پاکستان میں مسلح افواج نے زیادہ سے زیادہ بہتر سستے اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے ملٹری ہارڈ ویئر کو اپنے دفاعی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی توجہ فینسی نوعیت کے ملٹری ہارڈ ویئر کے بجائے کم قیمت مگر بہتر صلاحیت کے آلات کو حاصل کرنے کی جانب ہے۔رافیل کے مقابلے میں جے 10سی چھوٹا اور ہلکا ملٹی رول طیارہ ہے جو ہر قسم کے موسمی حالات میں کام کرسکتا ہے۔ جے 10سی اپنے ایک انجن کے ساتھ 2ہزار 305کلو میٹر جبکہ رافیل 2انجنوں کے ساتھ ایک ہزار 912کلو میٹر پرواز کرسکتا ہے۔ جے 10سی طیارہ رافیل کے بعد ڈیزائن ہوا ہے اس لیے اس ڈیزائن کو بہتر بناتے ہوئے طیارے کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی نظام نصب کیا گیا ہے۔ اس کا ڈبلیو ایس 10انجن 125سے 145کلو ناٹ کا تھرسٹ دیتا ہے جبکہ رافیل کا ایک انجن 75کلو ناٹ تھرسٹ دیتا ہے مگر وزن اور پھیلاو میں کم ہونے کی وجہ سے جے 10سی 56ہزار فٹ تک پرواز کرسکتا ہے جبکہ رافیل کی زیادہ سے زیادہ بلندی 51ہزار فٹ ہے۔ جے 10 سی کا تھرسٹ اور وزن کا تناسب رافیل سے کم ہے اس وجہ سے یہ زیادہ بہتر اور تیزی کے ساتھ حرکت کرسکتا ہے۔ جے 10 سی کی رفتار 2.2 ناٹ جبکہ رافیل کی رفتار 1.8 ناٹ ہے۔ رافیل طیارے مہنگے اور بڑے ہونے کے باوجود رفتار میں کم ہیں اس وجہ سے ڈاگ فائٹ یعنی دوبدو لڑائی میں جے 10 سی بہتر صلاحیت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔چین کے فضائی ادارے چنگڈو کے تیار کردہ جے ٹین سی میں جدید ہتھیاروں، ایویانیکس نظام، کے ساتھ 6 ہزار کلوگرام وزن تک جنگی ہتھیارمیزائل ، بم اورفیول لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ جنگی طیارہ ملٹی پل ٹارگٹس یعنی بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔جے ٹین سی، فائرکنٹرول ریڈار، لیزرگائیڈڈ بم اور میزائل سے لیس ہونے صلاحیت رکھتا ہے جو 250 کلومیٹر رینج میں کارروائی کرسکتا ہے۔ چین اور پاکستان کی مشترکہ فضائی مشقوں شاہین میں اس طیارے کو خوب آزمایا جاچکا ہے۔جے 10سی لڑاکا طیارے سمندری یا آبی سرحدوں کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان طیاروں کے حصول سے بحیرہ عرب میں پاکستانی بحریہ کی صلاحیت بھی بڑھ جائے۔بھارت کے رافیل طیاروں کا جے ٹین سی سے مختصر تقابلی جائزہ لیں تو دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس میں جدید ترین ریڈار نظام نصب ہے، امریکی طیارے ایف 35 میں بالکل ایسا ریڈار نصب ہے۔ اس کے ساتھ اس میں پی ایل 15 میزائل نصب ہے اس کی رینج 200 کلومیٹر ہے۔یہ جدید لڑاکا طیارہ فضا سے فضا، فضا سے زمین اور اینٹی شپ میزائل فائرکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جے ٹین میں پی ایل 8 اور پی ایل 10 میڈیم رینج ریڈار گائیڈڈ میزائل اور پی ایل 12 اور پی ایل 15 ان گائیڈڈ لیزر بم استعمال کرنے کی صلاحیت موجودہے۔یہ طیارہ فضا سے سطح زمین پر مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل اور اینٹی ریڈی ایشن میزائل استعمال کرنے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ چین نے جے ٹین سی طیارے کو سیمی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی متعارف کرایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں