پاکستان کے5خاص ہتھیار جن سے بھارت خوفزدہ

لاہور ( بیورو چیف )پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپنی انتہاں کو چھو رہی ہے۔ بھارتی میڈیا میں جنگ کے طبل بجائی جا رہی ہے اور پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے، جبکہ پاکستان ان الزامات کو یکسر مسترد کر کے دفاعی تیاریوں میں مصروف نظر آ رہا ہے۔ اگرچہ مکمل جنگ کے امکانات کم سمجھے جا رہے ہیں، تاہم محدود فوجی تصادم کی صورت میں خطے میں خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔بھارتی عسکری ذرائع یہ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو پاکستان کے پاس موجود چینی اسلحہ اور دفاعی نظام بھارت کے لیے شدید مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج حالیہ برسوں میں چینی ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا چکی ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار کسی بھی محدود جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ جیسے امریکہ اور مغربی دنیا نے یوکرین جنگ میں اپنے اسلحے کا عملی تجربہ کیا، ویسے ہی اب چین کے بنائے گئے ہتھیاروں کی کارکردگی بھارت کے ساتھ ممکنہ ٹکرا میں دیکھی جائے گی۔ پاکستان کے پاس پانچ بڑے چینی ہتھیار ایسے ہیں جو بھارت کی عسکری حکمت عملی کو چیلنج کر سکتے ہیں۔پاکستان نے 2021 میں چین سے 25 جے10 سی لڑاکا طیارے حاصل کیے۔ انہیں 2022 میں پاک فضائیہ میں شامل کیا گیا اور یہ F-16 بلاک 70 کے متبادل کے طور پر پیش کیے گئے۔ ان میں جدید AESA ریڈار، IIR PL-10 میزائل، PL-15 میزائل اور طاقتور انجن نصب ہیں۔ یہ طیارہ الیکٹرانک وارفیئر میں پاکستان کی صلاحیتوں میں انقلابی اضافہ کر سکتا ہے۔پاکستان اور چین کا مشترکہ شاہکارجے ایف17 ایک ہلکا پھلکا مگر مہلک ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے۔ یہ PL-10، PL-12 اور PL-15 میزائلوں سے لیس ہے اور بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر 200 سے 300 کلومیٹر دور سے حملے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دشمن کی دفاعی لائن کے پیچھے حملہ کر کے بھارت کو حیران کر سکتا ہے۔یہ چینی ساختہ دفاعی نظام بھارت کے روسی ساختہ S-400 کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ یہ دشمن کے طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روسی S-300 ٹیکنالوجی پر مبنی یہ سسٹم پاکستان نے 2021 میں خریدا اور اسے تیزی سے فعال کر دیا گیا۔ بھارت کے حملوں کی صورت میں یہ نظام فضائی دفاع کی سب سے بڑی دیوار بن سکتا ہے۔4. SH-15 ہاوٹزر توپ 155ایم ایم کی خودکار توپ جدید ڈیجیٹل فائر کنٹرول، جی پی ایس اور تھرمل امیجنگ سے لیس ہے اور کشمیر جیسے دشوار گزار علاقوں میں تیزی سے حملے اور پسپائی (hit-and-run) کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے حرکت کرنے والی یہ توپ دشمن کے اسلحہ ڈپو، رسد کے راستوں اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔5. CH-4 ڈرون چینی ڈرون امریکی MQ-9 Reaper کا متبادل ہے جو 14 گھنٹے مسلسل پرواز کر سکتا ہے اور 1500 کلومیٹر تک رسائی رکھتا ہے۔ یہ لیزر گائیڈڈ میزائل، FT-9 بم اور اینٹی ریڈی ایشن میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کنٹرول لائن پر نگرانی، حملے اور انٹیلیجنس جمع کرنے کے لیے یہ پاکستان کا خفیہ ہتھیار ہو سکتا ہے۔چین کے ان ہتھیاروں کی موجودگی اور پاکستان کی جنگی تیاریوں نے نئی دہلی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایک جانب بھارت دھمکیاں دے رہا ہے، دوسری جانب بنگلہ دیش اور چین جیسے پڑوسی ممالک کے بیانات اور حرکات بھارت کو علاقائی تنہائی کا شکار بنا رہی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت صرف میڈیا وار جیتنے کی کوشش کر رہا ہے یا واقعی میدانِ جنگ میں اترنے کی ہمت رکھتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں