معاشی اشاریوں میں تبدریج بہتری آ رہی ہے

فیصل آباد( سٹاف رپورٹر) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے قومی معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے پالیسی ریٹ اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے ساتھ ساتھ تعمیرات کے شعبہ پر غیر ضروری ٹیکسوں کے فوری خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور اُن کی معاشی ٹیم کی انتھک جدوجہد سے افراط زر سمیت دیگر معاشی اشاروں میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرسوں نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں 4فیصد کمی ناگزیر ہے تاکہ سرمایہ کی آسان دستیابی سے صنعتی پہیے کو رواں رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر تاریخ کی کم ترین شرح 0.28فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔ اس طرح بجلی کے نرخوں میں مزید کمی سے بھی پیداوار بڑھے گی جبکہ فاضل پیداوار کو برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایاجا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقوں میں اس بات کا برملا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ معاشی ترقی کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا اور بجلی کے نرخوں میں کمی ضروری ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھاری شرح سود کی وجہ سے فیصل آباد کی صنعتیں بند ہو رہی تھیں جبکہ شرح سود میں کمی سے صنعتی عمل میں تیزی آئے گی اور بند صنعتیں دوبارہ چلنے سے جہاں برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی وہاں نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سٹیٹ بینک کو اِن حقائق کے پیش نظر شرح سود میں 4فیصد کمی کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ریحان نسیم بھراڑہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے بزنس کمیونٹی کو آئندہ ماہ مزید کمی کا یقین دلایا تھا۔ انہوں نے شہباز شریف سے درخواست کی کہ بجلی کو 26روپے فی یونٹ پر لایا جائے تاکہ ہماری برآمدات کی پیداواری لاگت کم ہو اور” میڈ اِن پاکستان” مصنوعات عالمی منڈیوں میں اپنے حریف تجارتی ممالک کا مقابلہ کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں