پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے،محمد احمد خان

لاہور (بیورو چیف) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے مقامی ہوٹل میں “پاک بھارت مسائل، پاک فوج کا کردار، کشمیر، دہشت گردی، پانی اور دیگر مسائل: حل کیا؟ اور یو این او کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک، واضح اور قومی غیرت سے بھرپور مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ہماری افواج، قیادت اور عوام متحد ہیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بھارت کا اصل مسئلہ پاکستان کے وجود سے ہے۔ میرے جیسے لوگ جو ہمیشہ مذاکرات کے حامی رہے، اب بات چیت کے حامی نہیں رہے، جب کوئی آپ کے بنیادی حقوق تسلیم نہ کرے تو مذاکرات بیکار ہوتے ہیں۔” ملک محمد احمد خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ محض سرحدی نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقِ خودارادیت سے جڑا مسئلہ ہے۔ “کشمیر پر جھگڑا صدیوں پرانا ہے، استصوابِ رائے ہی اس کا واحد حل ہے۔ بھارت نے آئینی ترامیم کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہیں اور ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔” سپیکر ملک محمد احمد خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی طاقتیں ریاستی جبر، ماورائے عدالت قتل اور بھارتی دہشت گردی کو دیکھنے کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ “ریاستی دہشت گردی کے خلاف عالمی ضمیر خاموش کیوں ہے؟ کیا بھارت معیشت اور تجارت کی بنیاد پر ہر جرم کو چھپا سکتا ہے؟” اسپیکر نے سوال اٹھایا۔ پانی کے مسئلے پر انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی پر حق بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے، اور “اگر بھارت پانی روکنے یا آبی جارحیت کی کوشش کرے گا تو یہ عمل ‘ایکٹ آف وار’ کے زمرے میں آئے گا۔ بھارتی کوششیں سندھ طاس معاہدے اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوں گی۔” انہوں نے برہما پترا اور دیگر دریاؤں کے حوالہ سے بھارت کے دوہرے معیار کو بھی بے نقاب کیا۔ دہشت گردی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ “پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اسی ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ بلوچستان، سندھ اور پنجاب سے را کے ایجنٹوں اور کلبھوشن جیسے عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو افغانستان میں سیف ہیون حاصل ہے، اور پاکستان مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔” انہوں نے متنبہ کیا کہ “اگر بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہوا تو وہ نتائج کا ذمہ دار خود ہوگا۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں۔ ایک ایٹمی تصادم دو ارب انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے اور اس کے ماحولیاتی اثرات پچیس سال تک دنیا کو اندھیرے میں دھکیل سکتے ہیں۔” ملک محمد احمد خان نے کہا کہ “سپہ سالار فرنٹ لائن پر موجود ہے، وزیر اعظم نے بھی واضح پیغام دیا ہے۔ جب سے بھارت نے حملے کی دھمکی دی، قوم کو افواج کے ساتھ یکجا دیکھا ہے۔ ملک میں پروپیگنڈا کرنے والوں کے نقارے بند ہو چکے ہیں اور جو جذبہ نظر آیا ہے، چاہتا ہوں کہ یہ محبت ہمیشہ قائم رہے۔” خطاب کے اختتام پر اسپیکر نے کہا کہ “ہم خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں لیکن خودمختاری، قومی وقار اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور دشمن کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور بھارتی عزائم کے سدباب کے لیے فوری کردار ادا کرے۔” خطاب کے بعد شرکاء نے اسپیکر کے جرات مندانہ اور قومی جذبات سے بھرپور مؤقف پر پرجوش انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں