صفدر آباد میں تجاوزات نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا

صفدرآباد (نامہ نگار)شہر میں تجاوزات نے پھر سر اٹھا لیا،میلاد چوک اور پرانا کارخانہ بازار (مین بازار) میں ریڑھیوں کی بھرمار ،شہریوں کو پیدل چلنے میںدشواری کا سامنا۔ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ناکام ہو گئی،عوام کا برا حال ،میلاد چوک میں جگہ تنگ ہونے کے باعث ریڑھی والوں نے مزید پریشانی کھڑی کر دی۔کوئی افسر بھی صورتحال پر قابو نہ پاسکا،رٹ ختم ہو گئی ،صفدرآباد بنانا اسٹیٹ بن گیا۔ریڑھیوں کو بازاروں میںمستقل کھڑا ہونے سے روکا جائے جو بھی تجاوزات کرے اسے حوالہ قانون کیا جائے،شہریوں کا مطالبہ۔جب بھی دیکھو میلاد چوک اور اس کے آس پاس ریڑھیاں کھڑی ہوتی ہیں،دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ اگر کسی کی دکان کے پاس ریڑھی لگی ہوئی پائی گئی تو اسے بھاری جرمانہ اور سزا ہو گی۔شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیںجس کا لنک میونسپل کمیٹی میں ہو۔اس کی نگرانی خفیہ بھی کیا جائے ۔میلاد چوک اور مین بازار ،ریل بازار کو ریڑھیوں سے پاک کیا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قریبی شہر سانگلہ ہل مین بازار سے قیام پاکستان کے وقت سے بھی پہلے کی لگی ریڑھیاں اٹھائی جا سکتی ہیں اور بازار کو خوبصورت اور ریڑھی فری بنایا جا سکتا ہے تو صفدرآباد میں کیا مسئلہ ہے۔ صفدرآباد میں بھی ریڑھیوں کو شہر کے کسی دوسرے علاقے میںکھڑا کرنے کی جگہ دی جائے۔ان لوگوںکو قبرستان کے قریب ماہنیانوالہ روڈ پر شیلٹر بنا کر دیئے جائیںتا کہ یہ لوگ وہاں روزی کما سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں