فیصل آباد پولیس کے اہلکار مبینہ ڈکیتی کی واردات میں ملوث نکلے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام فیصل آباد پولیس کے اہلکار مبینہ ڈکیتی کی واردات میں ملوث نکلے افسران،شیر جوانوں کی شہری کے گھر پر مبینہ ڈکیتی کی واردات،پولیس اہلکار واردات کا ثبوت مٹانے کے لیئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ڈی وی آر کی بجائے گھر سے بچوں کا پلے سٹور اٹھا کر لے گئے،واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود پولیس افسران واردات میں ملوث لاڈلوں کو بچانے کے لیئے سر توڑ کوششوں میں مصروف،تھانہ مدینہ ٹائون کے علاقہ کینال روڈ ٹیک ٹائون کے رہائشی سجاول کے مطابق 19اپریل کی رات سادہ اور پولیس یونیفارم میں ملبوس ماسک پہنے اہلکاروں نیچادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اس کے گھر میں گھسے اور خواتین سے بدتمیزی کی اور گھر سے 20لاکھ مالییت کے ڈالر، 70لاکھ مالیت کا 20تولہ سونا 5لاکھ نقدی اور قیمتی سامان کے علاوہ واردات میں ملوث اہلکار ثبوت ختم کرنے کے لیئے کیمروں کے ڈی وی آر کی بجائے بچوں کا پلے سٹور اٹھا کر لے گئے واردات کی فوٹیج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کو موصول فوٹیج میں چہروں پر ماسک پہنے نامعلوم پولیس اہلکاروں کو شہری کے گھر میں گھستے خواتین سے بدتمیزی کرتے گھر سے سامان اٹھاتے اور کیمروں کا ڈی وی آر تلاش کرتے اور ڈی وی آر کی بجائے بچوں کا پلے سٹور اٹھا کر لیجاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ متاثرہ شہری کے مطابق سی پی او فیصل آباد،ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور سرکل افسر پیپلز کالونی کو درخواستوں کے باوجود انکی درخواستوں کو دبا کر صلح کے لیئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شہری کے گھر ریڈ کرنے والے اہلکار کون تھے ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی اس بارے میں اعلی پولیس افسران موقف دینے سے گریزاں ہیں۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ آئی جی پنجاب کی جانب سے تمام آر پی اوز کو ریڈ ایس او پیز کا تحریری حکم نامہ جاری کر رکھا ہے جس کے مطابق سی آئی اے اہلکاروں سمیت تھانہ جات کی پولیس کو تمام ریڈ بارے افسران کو آگاہ سرکاری گاڑی اور ریڈ کی آگاہی رپٹ،یونیفارم اور بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر ریڈ کرنے سے منع کیا گیا جس پر عملدارآمد تو درکنار ضلعی پولیس اس ایس او،پیز کی کھلے عام دھجیاں اڑنے میں مصروف جبکہ افسران بھی اس خلاف ورزی پر آنکھیں موندھے نظر آرہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں