وفاقی وزیر احسن اقبال نے جی سی یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس کا سنگ بنیاد رکھ دیا

چنیوٹ(نامہ نگار)چنیوٹ وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال کا چنیوٹ کا دورہِ وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال نے جی سی یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس کا سنگ بنیاد رکھ دیا اس موقع پر وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکڑ مختار احمد وائس چانسلر ڈاکٹر رف اعظم ایم پی اے مولانا الیاس چنیوٹی ایم پی اے تیمور امجد لالی شیخ برادری کے سر کردہ افراد بھی موجود تھے وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ جی سی یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس کی 200 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کی جائے گی اس سے پہلے ہماری شیخ برادری نے چنیوٹ میں بہت زیادہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ان فلاحی کاموں میں سر فہرست فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کا قیام ہے اس یونیورسٹی سے چنیوٹ فصیل آ باد اور دیگر شہروں سے طلبا اور طالبات اعلی تعلیم حاصل کر کے مسقند ہو رہے ہیں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے چنیوٹ کو پاکستان کا تعلیمی آکسفورڈ بنانے کا وعدہ اج پورا کر دیا ہے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے چنیوٹ کیمپس بنوانے والے افراد کا شکریہ ادا کیا وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال نے کہا کہ یہ کیمپس اس علاقہ میں ترقی کے سفر کا آغاز ہے یہاں سے نکلے طالب علم اپنی کامیابیوں کے جھنڈے پوری دنیا میں گاڑیں گے انہوں نے کہا کہ قوم کو آپریشن بنیان مرصوص کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ہماری بہادر افواج نے ثابت کیا کہ جنگیں تعداد سے نہیں صلاحیت سے لڑی جاتی ہیں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے رافیل جہازوں کو زمین بوس کرکے دھاک بٹھا دی ہماری بہادر مسلح افواج نے فتح میزائل داغ کر رعب جمایا دشمن بھارت کی مدد لیکر سیز فائر کروانے میں کامیاب ہوا ہماری بحریہ نے سمندروں سے حملہ کرنے کے خواب چکنا چورکیے پاکستان میں اس وقت ایسی قیادت نہیں تھی جو اسمبلی میں آ کر پوچھتی کہ اب میں حملہ کروں ؟؟ موجودہ قیادت نے بھارت کو دن میں تارے دکھا دئیے سوشل میڈیا کی قیادت اور حقیقی قیادت کا فرق سامنے آ گیا ہے یونیورسٹی کے ساتھ انڈسٹری کا اکیڈیمیز لنک کرنا ہیہمیں اب ترقی کے لیے ایکسپورٹس کی ضرورت ہے ہم نے 32 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کو 100 ارب تک لیکر جانا ہے۔ ترقی کے لیے ایکسپورٹس ضروری ہے ورنہ دوبارہ آئی ایم کے پاس جانا پڑیگا ہم نے اگر خودار خوشخال قوم بننا ہے تو اکانومی کو ٹیکنالوجی سے لنک کرنا پڑیگا ، ہمیں ہر شعبہ کی پیداواری صلاحیت میں کوالٹی لانی ہوگی دنیا کو میڈ ان پاکستان کی بہترین کوالٹی دینی ہے یونیورسٹیوں کو صرف ڈگری دینے کی فیکٹریاں نہیں بلکہ ریسرچ کی طرف جانا ہوگا، یہ کیمپس ہماری حکومت کے تعلیمی ویژن کا شاخسانہ ہے اعلی تعلیمی ادارے بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں کی طرف لے جارہے ہیں۔ویژن 2025 کے تحت ہر ضلع میں کیمپس بنانے کا عمل شروع کیا تھا۔ اب ان کیمپسز میں بچے بچیاں تعلیم حاصل کرکے ملک کی خدمت کریں گے ، ملک میں ہیومن ریسورس ، سائینس اور ٹیکنالوجی پر توجہ دیے بغیر ترقی ممکن نہیں مارشل لا لگنے سے ویژن 2010 ادھورا رہ گیا۔ ہماری حکومت نے ہزاروں پی ایچ ڈی سکالرشپ جاری کیے، آنے والا دور ڈیجیٹل انقلاب ، اے آئی کا دور ہے ، ہم نوجوانوں کو لیپ ٹاپس دیکر ڈیجیٹل سکلز دے رہے ہیں۔نوجوان مستقبل کا مقابلہ انڈے، کٹوں ، مرغیوں سے نہیں کرسکتے ۔ ہمارا ویژن نوجوانوں کو ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہے۔ ہم نوجوانوں کو گالیاں نہیں سکھا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں