پاکستان میں ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے،ڈاکٹر اسلم گابھا،ڈاکٹر ریحان

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) بلڈ پریشر ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو بغیر کسی واضح علامت کے دل، دماغ اور گردوں جیسے اہم اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ورلڈ ہائپرٹینشن ڈے کے موقع پر سرل فارماسیوٹیکل کے زیر اہتمام فیصل آباد پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ماہرین صحت نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس مہلک بیماری سے بچا ئو کا واحد راستہ بروقت تشخیص، باقاعدہ علاج اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلم گابھا (ہیڈ آف ربینہ میموریل ہسپتال)، ڈاکٹر ریحان ریاض (اسسٹنٹ پروفیسر کارڈیالوجی، الائیڈ ہسپتال)، ڈاکٹر علی احسان (اسسٹنٹ پروفیسر کارڈیالوجی، الائیڈ ہسپتال)، ڈاکٹر حبیب ، ڈاکٹر احمد شہزاد (صدر لائل پور ڈائبٹیز فانڈیشن پنجاب) اور سید غیور حسین (سینئر سیلز منیجر، سرل فارما)نے کہا کہ پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، اور اکثریت اس مرض سے لاعلم ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ چکنائی اور نمک سے بھرپور غذا، ورزش کی کمی، ذہنی دبا، نیند کی خرابی اور تمباکو نوشی اس مرض کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش، متوازن غذا، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور باقاعدہ بلڈ پریشر چیکنگ کو معمول کا حصہ بنایا جائے۔ڈاکٹروں نے اس بات پر زور دیا کہ ہائی بلڈ پریشر کی بروقت تشخیص اور دوا کا تسلسل مریض کی زندگی بچا سکتا ہے۔ ادویات کا باقاعدہ اور درست وقت پر استعمال دل، گردوں اور دیگر اعضا کو محفوظ رکھتا ہے۔سرل فارماسیوٹیکل کے نمائندوں نے اس موقع پر کہا کہ کمپنی نہ صرف معیاری ادویات فراہم کر رہی ہے بلکہ ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہمات بھی چلا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں