کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیلئے انہیں جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی ناگزیر ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، غذائی استحکام کو یقینی بنانے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے چھوٹے کسانوں تک جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور ماہرین کی سفارشات پہنچانا ناگزیر ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو احسن انداز سے پورا کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے پروفیشنل ٹریننگ اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے زیراہتمام ”فنانس، ایڈمنسٹر یشن، مینجمنٹ اور ایـگورننس” پر چار ہفتوں پر مشتمل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیشنل ٹریننگ اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وقاص وکیل نے بھی خطاب کیا۔ یہ تربیتی ورکشاپ محکمہ زراعت پنجاب کے افسران کی ترقی کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس پروگرام کے 28ویں بیچ میں زرعی معلومات اور کراپ رپورٹنگ ونگز سے تعلق رکھنے والے 43 افسران کو تربیت دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ جدید دور کے زرعی چیلنجز کے مقابلے کے لیے جدید رجحانات اور ماہرین کی سفارشات پر عملدرآمد کی جانب کاشتکاروں کو راغب کرنا ہو گا تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کو یقینی بناتے ہوئے زرعی خوشحالی کا نیا باب مرتب کیا جا سکے۔ پروفیشنل ٹریننگ اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وقاص وکیل نے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام محکمہ جاتی افسران کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ سنٹر اس وقت زرعی، لائیو سٹاک اور دیہی ترقی پر خصوصی توجہ کے ساتھ 250 مختصر کورسز پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانٹی نیوئنگ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جسے اب پروفیشنل ٹریننگ اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر میں اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اپنے قیام سے اب تک 11,000 سے زائد افراد کو مختلف مختصر کورسز کے ذریعے تربیت فراہم کر چکا ہے۔ اس موقع پر محکمہ زراعت کے افسران نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں