فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر قدرتی آفات کے حوالے سے دنیا کے بدترین متاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ جو سیلاب، خشک سالی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات جیسے خطرات سے دوچار ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انقلابی اقدامات اور عوامی سطح پر صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے شعور بیدار کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ دیہی عمرانیات کے زیر اہتمام ” موسمیاتی تبدیلیوں سے نبردآزما ہونے والی کاوشوں میں نوجوانوں کی شمولیت” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے مقررین نے کیا۔ یہ سیمینار وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہدایات پر منعقد کیا گیا۔یہ پروگرام عالمی سطح پر تعاون پر مبنی منصوبے ”تمام ایپلی کیشنز کے لیے انتہائی مؤثر پائیدار ٹھنڈک حل (S2Cool)” کے تحت منعقد ہوا۔ جسے یو کے ریسرچ اینڈ انوویشن (UKRI) کے آئرٹن چیلنج پروگرام کے تحت فنڈ کیا گیا ہے اور اس کی قیادت نارتھمبریا یونیورسٹی یو کے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر وکیل شہزاد کر رہے ہیں۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر بابر شہباز نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ کاوشیں عمل میں لانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم ماہرین اور نوجوان اذہان کو موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسئلے پر اکٹھا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا نوجوان طبقہ جدت اور تبدیلی کا محرک ہے اور ان کی فعال شمولیت ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔




