فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے فیصل آباد پریس کلب کا دورہ کیا۔ صدر شاہد علی ، سیکرٹری سید عزادار حسین عابدی ، سینئر نائب صدر جی اے تنویر ، نائب صدر ظفران سرور، جوائنٹ سیکرٹری ندیم جاودانی ، میاں بشیر اعجاز، مقبول احمد لودھی،گروپ لیڈر ایڈیٹر کونسل زاہد مان ،صدر پیر علی معروف قریشی ،میاںمحمد سعید،چوہدری مراتب جٹ ، سابق سئنیر نائب صدر شوکت علی وٹو ،صدر فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن محمد طاہر ،سابق سیکرٹری پریس کلب میاں کاشف فرید،رانا محسن فاروق ،صدر پاکستان وویمن جرنلسٹ فورم شہناز محمود اور ممبران کی کثیر تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ صدر شاہد علی نے ان کو پریس کلب کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروائی اور صحافتی سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تیسرے بڑے شہر کا پریس کلب اتنا ہی شاندار اور باوقار ہونا چاہیے ان کا مزید کہنا تھا کہ پریس کلب ایک انسٹیٹیوٹ کی حیثیت رکھتا ہے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ صحافی کالونی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کرینگے تاکہ فیصل آباد کے صحافیوں کو اپنا حق مل سکے ۔ ڈپٹی کمشنر نے پریس کلب میں پرتپاک استقبال کرنے پر صدر شاہد علی اور ان کی کابینہ کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع پر موجود صحافیوں کو فیصل آباد میں ہونے والے ترقیاتی کاموں بارے بریفنگ دی ان کا مزید کہنا تھا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ ہے جو عوام کے حقوق کو بہتر بنانے کیلئے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں میڈیا کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے پاکستانی میڈیا کو عالمی سطح پذیرائی ملی خاص طورپر انڈیا سے جنگ کے دوران پاکستانی میڈیا نے ذمہ دارانہ رپورٹر کی ڈپٹی کمشنر نے پریس کلب انسٹیٹیوٹ کا افتتاح بھی کیا اور کہا کہ یہ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد پریس کلب کو ایک منفرد مقام دیتا ہے اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ تربیت کیلئے ایک مثبت قدم یہ ادارہ نوجوان صحافیوں کیلئے نئی راہیں کھولے گا آخر میں ڈپٹی کمشنر نے خواتین لائونج کا بھی دورہ کیا جہاں صدر پر یس کلب شاہد علی کے ہمراہ صدر پاکستان وویمن جرنلسٹ فورم شہباز محمود چیف آرگنائزر PWJF افشاں بتول ، رانا حنا جمیل اور رفعت انور نے انہیں خواتین لائونج کا وزٹ کروایا اور انہیں خواتین صحافیوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پرایگز یکٹو علی رضا ملک، نادر مان، نعیم شاکر، ارشد انصاری، ڈاکٹر سعید طاہر، سلیم راجپوت، شاہد محمود اور ممبران کی کثیر تعداد موجود تھی۔




