ریلوے پریم یونین کی جدو جہد سےMODکوختم کر دیا گیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ریلوے ملازمین کی نمائندہ تنظیم پریم یونین سی بی اے کی طویل اور کامیاب جدوجہد کے نتیجہ میں این آر سی کے چیئرمین جسٹس شوکت صدیقی کی سربراہی میں ڈویژنل بنچ نے ریلوے میں ٹریڈیونین سرگرمیو ں پر پابندی کے کالے قانون MOD کوختم کرنیکا فیصلہ سنادیا۔اس کیس میں پریم یونین کی جانب سے مرکزی چیئرمین ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ بطوروکیل پیش ہوئے۔ریلوے پریم یونین کے مرکزی چیئرمین ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، مرکزی صدر شیخ محمد انور، سینئر نائب صدر عبد القیوم اعوان نے پورے ملک کے ملازمین کی ترجمانی کرتے ہوئے عدالت میں بھرپور انداز میں مقدمہ کی پیروی کی۔پریم یونین کے سیکرٹری جنرل خیرمحمو تونیو،چیف آرگنائزرخالدمحمود چوہدری، فیاض شہزادنے اسے تاریخی فیصلہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ یہ فیصلہ ریلوے پریم یونین اور مزدور کی جیت ہے۔ ملک کی ریلوے تاریخ میں آج کا دن ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ایم او ڈی جیسے کالے قانون کا خاتمہ اور این آر سی کے تاریخی فیصلے نے نہ صرف ملازمین کے حقوق کو بحال کیا بلکہ ریلوے میں پریم یونین کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کیا۔پریم یونین کے راہنماں نے کہاکہ یہ فیصلہ یونین کی مستقل محنت، بصیرت افروز حکمت عملی اور اتحاد کا نتیجہ ہے۔ یہ محض قانونی کامیابی نہیں بلکہ کارکنوں کے حقوق کی بحالی، آئینی و جمہوری اقدار کے تحفظ اور مزدور تحریک کی اخلاقی فتح ہے۔ ایم او ڈی جیسے قوانین ملازمین کے حقوق کے خلاف تھے، کو عدالتی کٹہرے میں لا کر چیلنج کرنا اور اس کے خلاف فیصلہ حاصل کرنا ایک جرت مندانہ اقدام تھا۔ یہ یونین کی قیادت کی دور اندیشی اور عملی جدوجہد کا مظہر ہے۔راہنماں نے کہاکہ ریلوے پریم یونین کی مرکزی قیادت کو اس تاریخ ساز کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان کی کاوشیں نہ صرف موجودہ ملازمین بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مثال بن چکی ہیں۔ آج ہر ریلوے ملازم کو اس جدوجہد پر فخر ہے۔ریلوے پریم یونین ایک ذمہ دار ٹریڈیونین کی حثیت سے اپنے رول ماڈل کے ذریعے ریلوے اور ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اپنا کرداراداکرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں