کمرشل پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ اچھا اقدام

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے وزیر خزانہ کی طرف سے 2025-26 کے سالانہ میزانیہ پر اپنے فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سے اپنی ملاقاتوں کے حوالے سے بہت پر امید تھے کہ صنعتوں کی بحالی اور پیداواری لاگت کے حوالے سے بجلی کی قیمت اور مارک اپ میں کمی کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کے تسلسل پر بات ہو گی مگر یہ صورتحال واضح نہیں کی گئی جبکہ اڑان پاکستان کے تحت برآمدات کو 60۔ ارب ڈالر تک بڑھانے کے سلسلہ میں برآمد کنندگان کیلئے کوئی پیکج بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقہ کیلئے ٹیکس کی شرح میں کمی اور تعمیراتی شعبہ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کو سراہا اور کہا کہ ٹیکس کی وصولیوں کے ٹارگٹ میں 18فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کس طرح ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نان فائلرز پر بعض پابندیوں کے علاوہ اس نظام کے خاتمے کیلئے کوئی واضح قدم نہیں اٹھا یا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گرین انرجی کے فروغ کیلئے کوشاں ہے مگر درآمدی پینلز پر 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ سے ہمیں بہت زیادہ توقعات تھیں تاہم شاید آئندہ ترامیم کے ذریعے اس میں بہتری لائی جا سکے۔ تعمیراتی شعبہ کے بارے میں ریحان نسیم بھراڑہ نے کہا کہ ملک میں ڈیڑھ کروڑ گھروں کی کمی ہے ہم نے تجویز دی تھی کہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ تک کے ایک گھر کو ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کمرشل پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر کے اچھا اقدام اٹھایا ہے مگر زراعت اور برآمدات کے حوالے سے کوئی غیر معمولی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں