تاجر تنظیموں نے وفاقی بجٹ کو مایوس کن قرار دیدیا

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سرپرست اعلی و صدر انجمن تاجر ان سٹی فیصل آباد خواجہ شاہد رزاق سکا , جنرل سیکرٹری،شیخ سعیداحمد ڈپٹی سیکرٹری میاں ریاض شاہد، چیئر مین مرزااشرف مغل ،صدر ینگ ٹریڈرز ملک سہیل نیاز طوراورسینئر رہنمائوں نے بجٹ پرتحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا ہیکہ کامیاب حکمرانوں کا مقصدعوام کوبھاری ٹیٰکسوںمیں جکڑ کرعیش کرنا نہیں عام آ دمی کی زندگی کو آسان ، خوشحال بنا نا اور انکی مشکلات و مسائل کو حل کرنا ہوتاہے ملک بھر کی تاجر تنظیموںاور ایوانہائے صنعت و تجارت نے2025.26 کے وفاقی بجٹ کو ملک کی تاریخ کا مایوس کن بجٹ قرار دیکر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور نہ کئے توسڑکوں پردمادم مست ہوگا بجٹ میں سر کاری ملازمین کی تنخواہوں میں10 فیصداضافہ کرکے بڑا احسان کیاہے حالانکہ سپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینٹ اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 6 سو فیصداضافہ کیا گیاجبکہ انکے فنڈز بھی بڑھادیئے گئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں حکومت کوئی معاشی منصوبہ نہیں دے سکی 14 ہزارارب روپے کا ٹیکس ہدف پور کرنے سے معیشت کا حجم مزید سکڑے گا ، مہنگی بجلی ، گیس اور پٹرول ایکسپورٹ کوجام کردیگی بجلی کے بلوں میں 13 قسم کے ٹیکسز فورعی ختم کئے جائیںسولر پینلزپر18 فیصدسیلزٹیکس عائد کرنے سے انکی قیمتیں بڑھ جائینگی ،پٹرولیم مصنوعات پر لیوی78 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کرناطلم ہے اسے واپس لیاجائے IMF کی غلامی کی دستاویز کو بجٹ کا نام دینااونچی دکان پھیکا پکوان کے مترادف ہے نئے مالی سال کا بجٹ مراعات یافتہ طبقہ کو نوازنے کا بجٹ ہے جس میںحکومتی اخراجات کم کرنے کی بجائے ٹیکسز کی بھر مارہے جو ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی افراتفری کا نیاطوفان برپا کریگا خواجہ شاہد رزاق سکانے کہا کہ فیکٹری مالکان مزدوروں کی تنخواہوںمیں اضافہ سمیت دیگر قوانین کی پابندی کر رہے ہیں لیکن اب وہ ٹیکسوں سے بھر ے اس بجٹ میں اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں