پہلا بجٹ ہے جس میں تاجروں کی مشاورت شامل نہیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق ممبر ایگزیکٹو و صدر کلاتھ مرچنٹس امین پور بازار رانا اکرا م اللہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مراعات یافتہ طبقہ کو نوازنے کا بجٹ ہے جس میںحکومتی اخراجات کم کرنے کی بجائے ٹیکسز کی بھر مارکی گئی ہے جو ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی افراتفری کا نیاطوفان برپا کریگا ۔رانا اکرام اللہنے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس میں کاروباری برادری کی مشاورت شامل نہیں اور ملک بھر کی تاجر تنظیموںاور ایوانہائے صنعت و تجارت نے بھی یہ کہکر اس بجٹ کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ یہ عوام دوست بجٹ نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے چاہئے تھے ٹیکسوں میں اضافہ سے ملک می ناقابل برداشت مہنگائی بڑھے گی مہنگی بجلی ، گیس اور پٹرول ایکسپورٹ کوجام کردیگی اسلئے بجلی کے بلوں میں 13 قسم کے ٹیکسز فورعی ختم کئے جائیں ،سولر پینلزپر18 فیصدسیلزٹیکس عائد کرنے سے انکی قیمتیں بڑھ جائینگی ،پٹرولیم مصنوعات پر لیوی78 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کرناطلم ہے اسے واپس لیاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں