جنگ میں شدت،ایران کا اسرائیلی فضائی حدود پر کنٹرول

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی طاقتوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک جانب امریکا اور برطانیہ ایران کے خلاف صف آرا ہیں تو دوسری جانب فرانس، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک نے یا تو اس کشیدگی سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے یا ایران کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی منظرنامہ خطرناک حد تک کشیدہ ہو چکا ہے، جہاں ہر لمحہ صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔برطانیہ نے امریکا کے بعد اپنے لڑاکا طیاروں کو مشرق وسطی منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ لندن میں برطانوی سیکرٹری دفاع نے اس اقدام کو تنائو میں کمی کے لیے احتیاطی تدبیر قرار دیا ہے، تاہم یہ پیش رفت واضح طور پر جنگی تیاریوں کی غمازی کر رہی ہے۔ اس کے برعکس فرانس نے طاقت کے استعمال اور ایران میں حکومتی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو غلطی قرار دے دیا ہے۔ پیرس میں فرانسیسی صدر نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے اس عمل کی مخالفت کی ہے، جو واضح طور پر امریکی پالیسی سے انحراف ہے۔اسرائیل اور امریکا کے مابین بڑھتی قربت اور ٹرمپ کی دھمکیوں پر امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر نے شدید ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی نے امریکا پر نہ حملہ کیا ہے، نہ کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ وقت ہے کہ امریکا کو اس جنگ میں جھونکنے سے روکا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل امریکا کو اپنی جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے اور امریکیوں کو ایک اور نسل کو آگ میں نہیں جھونکنا چاہیے۔دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تازہ حملوں میں اسرائیل کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج نے واضح اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل جنگ تو اب شروع ہوگی اور اسرائیل کے شہریوں کو حیفہ اور جافا جیسے شہروں کو فوری خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔واشنگٹن میں امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ایک معروف امریکی اخبار کے مطابق ایران کی جانب سے فردو پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کا آغاز عراق سے ہو سکتا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں ایران بارودی سرنگیں بچھانے کی حکمت عملی اپنا چکا ہے۔ ساتھ ہی حوثی جنگجو بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مستعد ہیں۔صدر ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ وائٹ ہاس کے سچویشن روم میں طویل اجلاس منعقد کیا جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اجلاس میں ایران پر ممکنہ حملے کے تمام پہلوں پر غور کیا گیا، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت کھلی جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔اس تمام صورتحال میں حیران کن طور پر متحدہ عرب امارات نے ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ولی عہد محمد بن زاید النہیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان مشکل حالات میں ہم ایران کی حمایت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یو اے ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسرائیل-ایران تنازعے پر فوری ایکشن لینے کی اپیل بھی کی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں بھی اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں۔صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نئی کروٹ لے رہی ہے، اور عالمی جنگ کے خدشات پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں پر فوری ایکشن لینے کے دبا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، لیکن بڑی قوتوں کے باہمی تضادات دنیا کو تباہ کن تصادم کی جانب دھکیل رہے ہیں۔دریں ثنائ۔یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کی دسویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل پر مزید میزائل داغ دیے جس سے پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اسرائیل کے خلاف تازہ حملوں کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے زیرکنٹرول ”مقبوضہ علاقوں کی فضائوں پر مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے اور اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی حملوں کے آگے بے بس ہو چکا ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ایک اور میزائل حملہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کیے گئے کئی حملوں میں تازہ ترین ہے۔ اس حملے کے بعد پورے اسرائیل، بشمول تل ابیب، میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائلوں کی تازہ ترین بارش نے ملک بھر میں فضائی حملے کی وارننگز کو فعال کر دیا ہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 20میزائل داغے ہیں جبکہ شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ایرانی خبر رساں ایجنسیوں میں شائع ہونے والے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان کے طاقتور اور متحرک ”فتح میزائلوں” نے اسرائیلی میزائل دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جو ایران کی قوت اور برتری کا واضح پیغام ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم مقبوضہ علاقوں کی فضائوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرچکے ہیں اور وہاں کے رہائشی ایرانی حملوں کے سامنے مکمل طور پر غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق حالیہ میزائلوں کی بوچھاڑ سے تل ابیب میں زوردار دھماکے ہوئے اور ایک پارکنگ ایریا میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم دیگر مقامات پر حملے کے اثرات کے بارے میں کچھ واضح نہیں کیونکہ اسرائیل اس نوعیت کی حساس معلومات کو سنسر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کے اس دعوے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی فضائی حدود پر ”مکمل کنٹرول” حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے تہران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم ایرانی فوجی قیادت کے تازہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کسی دبا کو خاطر میں لائے بغیر اسرائیل کو سخت جواب دینے پر بضد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں