لاہور (بیوروچیف)سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں بجٹ ضروت سے انتہائی کم ملا، سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی آئندہ مالی سال میں بھی چیلنج بن گئی ۔ حکومت نے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ادویات کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہ کیا ،سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں رواں مالی میں ادویات کیلئے 55ارب مختص، 76ارب خرچ ہوئے ۔ آئندہ مالی سال میں بھی ادویات کیلئے 55ارب روپے ہی مختص کیے گئے ، آئندہ مالی سال کیلئے ادویات خریداری مد میں 21 ارب کم بجٹ مختص کیا گیا ۔ بجٹ میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ادویات خریداری کے لیے ٹیچنگ ہسپتالوں کو چیلنج درپیش رہے گا۔ دل کے سب سے بڑے ہسپتال پی ائی سی کے بجٹ میں بھی ایک روپے کا اضافہ نہ ہوا ، پی آئی سی کیلئے آئندہ مالی سال میں بھی ایک ارب 80کروڑ روپے ہی مختص کرنے کی تجویز کی گئی ، چلڈرن ہسپتال ایک ارب 82کروڑ، جنرل ہسپتال ایک ارب، جناح ہسپتال ایک ارب 9 کروڑ مختص کیے گئے ، سروسز ہسپتال ایک ارب دوکروڑ،میو ہسپتال کو ایک ارب 33کروڑ، لیڈی ولگنڈن ہسپتال 20کروڑ، لیڈی ایچی سن 10کروڑ مختص کیے گئے ۔ فاطمہ جناح انسٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز ایک کروڑ، نوازشریف ہسپتال یکی گیٹ 25کروڑ، پنجاب ڈینٹل ہسپتال کے لیے ساڑھے چار کروڑ رکھے گئے۔ کوٹ خواجہ سعید ہسپتال 36کروڑ، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال 18کروڑ، سید مٹھا ہسپتال 30کروڑ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ 10کروڑمختص کیے گئے ۔جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی علاج گاہ کے بجٹ میں کمی کر دی۔ نشتر ہسپتال ملتان کے بجٹ میں تقریباً17کروڑ کی کمی ، 78کروڑ روپے مختص کیے گئے، روالپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی 90کروڑ، بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپورایک ارب روپے ہی مختص کیے ہیں ۔الائیڈ اور ڈی ایچ کیو ہسپتال فیصل آباد کے لیے ایک ارب 79کروڑ روپے مختص، فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے ایک ارب 5کروڑ ، گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کے لیے 65کروڑ، سیالکوٹ ٹیچنگ ہسپتال 40کروڑ مختص ،ساہیوال ہسپتال کو 45کروڑ، ڈی جی خان ہسپتال کے بجٹ میں 10کروڑ روپے کی کٹتی سے 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ۔ وزیر آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی 45کروڑ، نشترہسپتال ٹو ملتان کو 50کروڑ، میاں منشی ہسپتال 22کروڑ تجویز، ملتان انسٹی ٹیوٹ اف کارڈیالوجی 75کروڑ، چلڈرن ہسپتال ملتان 20کروڑ مختص ، ہولی فیملی ہسپتال روالپنڈی ایک ارب 5کروڑ ، شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان 75کروڑ، عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال 22کروڑ 50لاکھ ،ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا 45 کروڑ روپے مختص کیے گئے ، کسی ٹیچنگ ہسپتال کو رواں مالی سال کے استعمال کے مطابق ادویات کا بجٹ نہ مل سکا۔




