پاکستان اور قازقستان کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اضافہ ناگزیر ہے،مسٹر یرزان گستافین

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان اور قازقستان کے درمیان دو طرفہ تجارت دونوں ملکوں کے پرنینشل سے بہت کم ہے جسے ایک بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاہم اسے حاصل کرنے کیلئے دونوں ملکوں کی بزنس کمیونٹی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ بات پاکستان میں قازقستان کے سفیر مسٹر یرزان کستافین نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی لین دین کیلئے پاکستان کے چار مختلف بینکوں نے انتظامات کئے ہیں جبکہ ٹی سی ایس اور این اہل سی کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر سامان کی ترسیل بھی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قازقستان وسط ایشیا کا واحد ملک ہے جس نے ای کامرس کے شعبہ میں تعاون کیلئے پاکستان سے معاہدہ کر رکھا ہے ہمیں اس سے بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کے معیار کو سراہا اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ سے درخواست کی کہ وہ قازقستان کیلئے تجارتی وفد تشکیل دیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان اس خطے کی سب سے بڑی معیشت ہے جبکہ ہم یوریشین اکنامک یونین کے بانی ممبر ہیں جبکہ یہاں جدید ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز بھی قائم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قازقستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے کئی معاہدوں کی نشاندہی کی ہے۔ جن پر حکومتی سطح پر غور ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ قازقستان کے صدر کا دورہ پاکستان جلد متوقع ہے۔ جس میں دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کیلئے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور الماتے کو فنانشل ہب ہونے کی وجہ سے جڑواں شہر کا درجہ دیا گیاجبکہ ش یہک نٹ اور فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کی مناسب سے جڑواں شہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں