فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیصل آباد کے سرکاری وپرائیویٹ ہسپتالوں میں ایمبولینس مافیا کا راج’ مریضوں اور میتوں کو شفٹ کرنے کیلئے ہزاروں روپے وصول کرنے لگے’ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ تفصیل کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینسز کو ریسکیو1122 کے سپرد کرنے کے بعد پرائیویٹ ایمبولینس والوں نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے، شہر کے بڑے الائیڈ ہسپتال’ ڈی ایچ کیو’ غلام محمد آباد’ سمن آباد سمیت دیگر سرکاری اور پرائیویٹ ہسپالوں میں ایمبولینسز مافیا نے پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے ورکرز نے اپنی ایمبولینسز بنا رکھی ہیں اور ایمرجنسی وارڈ سمیت دیگر وارڈز میں اگر کوئی مریض فوت ہو جائے تو وہاں پر ہسپتال کا عملہ اپنے منظور نظر ایمبولینس ڈرائیور کو فوری طور پر فون کر کے آگاہ کر دیتا ہے اور ڈرائیور وہاں پہنچ جاتا ہے، مریض کی فوتگی کی اطلاع دینے والوں کو بھی 300 سے 500 روپے تک دیئے جاتے ہیں اور شہر کے اندر 5سے 7کلومیٹر میت لے جانے کے عوض پرائیویٹ ایمبولینسز والے 3سے 5ہزار روپے وصول کرتے ہیں اور غم کے مارے لواحقین معمولی سفر کے باوجود بھاری رقوم دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے پر منہ مانگی رقم وصول کئے جا رہے ہیں۔ پرائیویٹ ایمبولینسز والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ کئی مرتبہ ایم ایس نے پرائیویٹ ایمبولینسز کے داخلہ پر پابندی عائد کی لیکن وہ سرکاری ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو رام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مریضوں اور میتوں کو گھروں تک پہنچانے کیلئے پرائیویٹ ایمبولینسز والوں کیلئے ضابطہ بنایا جائے اور فی کلومیٹر کے حساب سے ریٹ مقررہ کئے جائیں اور ہسپتالوں میں نمایاں جگہوں پر ایمبولینسز کے فی کلومیٹر کے ریٹ آویزاں کئے جائیں۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف’ کمشنر فیصل آباد مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر’ سی ای او ہیلتھ سمیت ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں پرائیویٹ ایمبولینسز مافیا کو لگام ڈالنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں اور ان کے فی کلومیٹر کے ریٹ مقررہ کئے جائیں، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔




